اسپین نے غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں اسرائیلی کھیل ٹیموں پر دوہری معیار پر سوال اٹھایا اور مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ویسی ہی پابندیوں کا سامنا کرنا چاہیے جیسا روس کو یوکرین پر حملے کے بعد ہوا۔ اسپین کی وزیر برائے کھیل پیلار ایلگریا نے کہا ہے کہ اگر روسی ٹیموں کو بین الاقوامی مقابلات سے باہر رکھا گیا تو اسرائیلی ٹیموں پر بھی اسی طرح کی پابندیاں عائد ہونی چاہئیں۔
خارجہ وزیر خوسے مینوئل البارس نے ویوی تأیید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ویونٹا اسپانا سائیکلنگ ریس سے اسرائیل پریمیئر ٹیک ٹیم کی شرکت کے خلاف ہیں، اور اسرائیل کو عالمی کھیل تنظیموں میں شرکت سے روکنا چاہئے جب تک کہ انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ چل رہا ہے۔
اسپین نے روس پر عائد پابندیوں کا حوالہ دیا، جہاں روسی کھلاڑی بین الاقوامی مقابلوں سے روکے گئے، قومی پرچم استعمال نہ ہو سکا، اور ترانہ بھی نہیں بجایا گیا، اور کہا کہ اسرائیلی ٹیموں کے معاملے میں وہی خطوط ہونے چاہئیں۔
ویوی تقاضا کے بعد احتجاج بھی بڑھ گیا ہے۔ مثلاً ویویٹا اسپانا (La Vuelta a España) سائیکلنگ مقابلے میں اسرائیل پریمیئر ٹیک ٹیم کی شرکت کے خلاف احتجاج ہوا، جس نے ریس کی ایک مرحلے کی منزل کو مختصراً ختم کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ٹیم نے بعد میں اپنے جرسیز سے لفظ “Israel” نکال لیا تاکہ احتجاج اور سلامتی کے مسائل سے بچا جائے۔
مگر واضح رہے کہ ایسے فیصلے کرنے کا اختیار بین الاقوامی اولمپک کمیٹی، یونین سائیکلنگ انٹرنیشنل (UCI) یا دیگر کھیل تنظیموں کے پاس ہے، حکومتوں کے پاس براہِ راست طاقت کم ہے۔ البارس نے کہا کہ وہ پابندی کا حامی ہے، مگر فیصلہ کھیل کی عالمی تنظیموں کو کرنا ہے۔
