عالمی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنی صحت سے متعلق بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کو جھوٹ اور من گھڑت قرار دے کر سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں بعض بھارتی سوشل میڈیا صارفین اور چند میڈیا پلیٹ فارمز نے یہ بے بنیاد دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک ایڈز جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں اور اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، یہاں تک کہ ان کی اہلیہ فرحت نائیک اور بیٹی کا HIV ٹیسٹ بھی مثبت آنے کی جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں۔
تاہم، ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ان خبروں پر فوری ردِعمل دیتے ہوئے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ وہ اللہ کے فضل سے مکمل طور پر صحت مند ہیں اور ایسی تمام افواہیں بدنیتی پر مبنی اور پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ ان کے وکیل اکبرالدین عبدالقادر نے بھی میڈیا کو تصدیق کی کہ ڈاکٹر نائیک کسی اسپتال میں نہیں بلکہ اپنے گھر پر اہلِ خانہ کے ساتھ موجود اور دینی و سماجی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
وکیل کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا ایک منظم سازش کے تحت عوام کو گمراہ کرنے اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی جھوٹی خبریں نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ صحافتی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان افواہوں پر کان نہ دھریں اور جھوٹے پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں۔ ڈاکٹر نائیک کی جانب سے یہ واضح پیغام سامنے آیا ہے کہ سچ کو دبایا نہیں جا سکتا اور جھوٹ جتنا بھی پھیلایا جائے، ایک دن بے نقاب ہو کر رہتا ہے۔
