قطر نے امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا ہے جن میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ قطر اپنی سکیورٹی شراکت داری پر نظر ثانی کرنے کا سوچ رہا ہے۔
دوحہ کے انٹرنیشنل میڈیا آفس کی جانب سے جاری بیان میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ یہ خبریں نہ صرف غلط ہیں بلکہ ان کا مقصد قطر اور امریکہ کے درمیان قائم دیرینہ تعلقات پر منفی اثر ڈالنا ہے۔ قطری حکام نے کہا کہ ایسے بیانات دراصل ان قوتوں کی کوشش ہیں جو خطے میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کے خواہش مند ہیں اور جنہیں علاقائی امن سے فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کی من گھڑت رپورٹس دراصل ایک ناکام کوشش ہیں تاکہ قطر اور امریکہ کے درمیان تعاون میں شگاف ڈالا جا سکے۔
قطر نے اس موقع پر یہ بھی یاد دہانی کرائی کہ امریکہ اور قطر کے تعلقات محض حالیہ عرصے کے نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی مدد کی ہے، ایک دوسرے کی ضرورتوں کا خیال رکھا ہے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک ساتھ کوششیں کی ہیں۔ قطری حکومت نے زور دے کر کہا کہ ان کے اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی اور دفاعی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور یہ سلسلہ آئندہ برسوں میں مزید بڑھتا جائے گا۔ دوحہ کی جانب سے کہا گیا کہ ایسے تعلقات کو چند بے بنیاد دعوے یا ذرائع ابلاغ میں آنے والی غیر مصدقہ رپورٹیں کمزور نہیں کر سکتیں۔
قطر اور امریکہ کی شراکت داری کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ دوحہ میں امریکی فضائیہ کا سب سے اہم اور بڑا فوجی اڈہ "العدید ایئر بیس” موجود ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی دفاعی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون سمجھا جاتا ہے۔ یہ اڈہ نہ صرف افغانستان، عراق اور شام جیسے تنازعات میں امریکہ کی فوجی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے بلکہ خطے میں امریکہ کے تزویراتی کردار کی بنیاد بھی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے قطر کو "میجر نان نیٹو الائی” کا خصوصی درجہ دیا ہوا ہے جس کی بدولت قطر کو دفاعی، عسکری اور تجارتی شعبوں میں خصوصی فوائد حاصل ہیں۔ اگر قطر واقعی ان تعلقات پر نظر ثانی کرتا تو یہ امریکہ کے لیے نہایت بڑا دھچکا ہوتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ قطر نے ایسے کسی بھی امکان کو سختی سے مسترد کیا ہے۔
قطر کے حالیہ موقف کو اس وقت مزید اہمیت حاصل ہوئی جب اسرائیل نے دوحہ میں ایک رہائشی کمپاؤنڈ کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا۔ قطر نے اس حملے کی نہ صرف شدید مذمت کی بلکہ اسے بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ قطری حکام نے کہا کہ ایسے حملے خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دیتے ہیں اور عالمی امن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود قطر نے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کا تعاون خطے میں امن کے قیام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
اگر خطے کی مجموعی صورتِ حال پر نظر ڈالی جائے تو قطر اور امریکہ کے تعلقات کا ایک اور پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ قطر توانائی کے شعبے میں دنیا کا ایک بڑا کھلاڑی ہے، خصوصاً مائع قدرتی گیس (LNG) کی برآمدات کے حوالے سے اس کا مقام منفرد ہے۔ امریکہ بھی توانائی کی عالمی سیاست میں قطر کو اہم حیثیت دیتا ہے۔
یہ تعلق صرف دفاعی شعبے تک محدود نہیں بلکہ اقتصادی اور سفارتی سطح پر بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ قطر نے افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران بھی واشنگٹن کی بھرپور مدد کی تھی اور دوحہ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا میزبان بھی رہا۔ یہ تمام مثالیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ قطر اور امریکہ کے تعلقات کسی وقتی دباؤ یا نامعلوم ذرائع کی خبروں سے متزلزل نہیں ہو سکتے۔
قطر نے امریکی میڈیا میں سامنے آنے والے ان دعووں کو نہ صرف جھوٹا قرار دیا بلکہ اسے ایک پروپیگنڈا مہم کا حصہ بتایا جس کا مقصد خطے میں امریکہ اور قطر کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ دوحہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کا اور امریکہ کا تعاون پہلے سے زیادہ مستحکم ہے اور یہ تعلقات آگے بھی اسی مضبوطی کے ساتھ جاری رہیں گے تاکہ عالمی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کیا جا سکے۔
