امریکا میں سیاسی و صحافتی حلقوں میں ہلچل مچا دینے والے واقعے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے قدامت پسند تجزیہ کار اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک کے قاتل کی اطلاع دینے والے کے لیے ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کر دیا ہے۔
ایف بی آئی نے جمعہ کو اپنے بیان میں کہا کہ چارلی کرک کو قتل کرنے والے مشتبہ شخص کی تصاویر جاری کر دی گئی ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تحقیقات میں بھرپور تعاون کریں۔ ادارے کے مطابق، "جو بھی شخص قاتل سے متعلق معلومات فراہم کرے گا یا اس کی گرفتاری میں مدد دے گا، اسے 100,000 ڈالر نقد انعام دیا جائے گا۔”
تحقیقات کے دوران تاحال قاتل کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ ایف بی آئی حکام نے تصدیق کی کہ گزشتہ روز دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، تاہم ابتدائی تفتیش کے بعد شواہد نہ ملنے پر انہیں رہا کر دیا گیا۔ تفتیشی ٹیموں کا کہنا ہے کہ کیس پیچیدہ ضرور ہے لیکن پیشرفت ضرور ہو رہی ہے، اور دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد امریکا میں سیاسی منظرنامہ مزید کشیدہ ہوگیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو کہ چارلی کرک کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے ہیں، نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا
یہ بزدلانہ حملہ آزادی اظہار پر حملہ ہے۔ قاتل کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ امریکی عوام مطمئن رہیں، انصاف ضرور ہوگا۔
چارلی کرک پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ یوٹا یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کر رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق، تقریر کے دوران نامعلوم شخص نے گولی چلائی جس سے کرک موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ اس المناک واقعے نے امریکا بھر میں نہ صرف سیاسی حلقوں کو جھنجھوڑ دیا ہے بلکہ ملک میں سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قتل امریکا میں بڑھتے ہوئے سیاسی انتشار اور تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔ کئی مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس واقعے کے بعد قدامت پسند و لبرل حلقوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
