اسپین نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر اسرائیل کو یورو ویژن 2026ء میں شرکت کی اجازت دی گئی تو وہ اس عالمی موسیقی مقابلے میں شرکت نہیں کرے گا۔ یہ فیصلہ اسپین کے سرکاری نشریاتی ادارے نے میڈرڈ میں ہونے والی بورڈ میٹنگ میں کیا، جسے یورپی میڈیا میں ایک جرات مندانہ اور اخلاقی مؤقف قرار دیا جا رہا ہے۔
اسپین سے قبل نیدرلینڈز، آئرلینڈ اور سلووینیا بھی یورو ویژن کے بائیکاٹ کی دھمکی دے چکے ہیں، ان تمام ممالک نے اسرائیل کے غزہ میں جاری مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حیران کن طور پر، یورو ویژن کی تنظیم نے روس کو یوکرین پر حملے کے بعد مقابلے سے خارج کر دیا تھا، تاہم اسرائیل کو مسلسل دو سال سے شرکت کی اجازت دی جا رہی ہے، جس پر دوہرا معیار برتنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ یورو ویژن صرف ایک موسیقی کا مقابلہ نہیں بلکہ یورپ کے ثقافتی تنوع اور بین الاقوامی اتحاد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں کئی ممالک کا اسرائیل کی موجودگی پر احتجاج عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک سنجیدہ کوشش بن کر ابھرا ہے۔ اسپین کے حالیہ فیصلے نے اس تحریک کو مزید تقویت بخشی ہے اور یورپی نشریاتی یونین (EBU) پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی شمولیت پر اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔
