اسلام آباد: پاکستان کے سب سے بڑے معدنی منصوبے ریکوڈک سونے اور تانبے کی کان کے لیے ایک اور بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعرات کو منصوبے کے پہلے مرحلے کی ترمیم شدہ لاگت 7 ارب 72 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد اگلے دو ہفتوں میں حتمی معاہدے پر دستخط متوقع ہیں، جو پاکستان کے معدنی وسائل کے خواب کو عملی جامہ پہنانے میں اہم سنگِ میل ہوگا۔
ابتدائی تخمینہ 6 ارب 76 کروڑ ڈالر تھا، مگر قرضوں اور اضافی اخراجات کی وجہ سے لاگت بڑھ کر 7 ارب 72 کروڑ ڈالر ہو گئی۔ منصوبے کے قرضے کی مالیت 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 3 ارب 50 کروڑ ڈالر کر دی گئی ہے۔
پاکستان مائنرلز پرائیویٹ لمیٹڈ (پی ایم پی ایل) اور بلوچستان مائنرل ریسورس لمیٹڈ (بی ایم آر ایل) کی مالی ذمہ داریاں بھی نئی فنانسنگ کے بعد کم ہو کر بالترتیب 1.17 ارب ڈالر اور 70 کروڑ ڈالر تک رہ جائیں گی۔
ریکوڈک منصوبہ پاکستان کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہونے جا رہا ہے۔ اس کی کان کی متوقع عمر 37 سال ہے، جس کے دوران تقریباً 90 ارب ڈالر کا آپریٹنگ کیش فلو متوقع ہے۔ پاکستان کو براہِ راست 53 ارب ڈالر سے زائد آمدن حاصل ہوگی، جس میں وفاق، بلوچستان حکومت اور ریاستی ادارے برابر کے شریک ہوں گے۔
بلوچستان کے عوام کو بھی منصوبے کے تحت صاف پانی، اسکول، طبی سہولتیں اور تربیتی پروگرامز ملیں گے، جبکہ مقامی نوجوانوں کے لیے ہزاروں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔
تعمیر کے دوران 7 ہزار 500 افراد اور آپریشن کے دوران مزید 3 ہزار 500 افراد کو ملازمت ملے گی۔ مزید یہ کہ 27 بلوچ گریجویٹس کو بیرون ملک تربیت کے لیے بھیجا گیا ہے اور چاغی کے 300 طلبہ ہنر فاؤنڈیشن کے پروگرامز میں داخل ہیں۔
منصوبے کے کانسنٹریٹ کو بلوچستان سے پورٹ قاسم تک پہنچانے کے لیے 1350 کلومیٹر ریلوے ٹریک بنایا جائے گا، جس کے لیے حکومت نے 39 کروڑ ڈالر کے برج فنانسنگ پیکیج کی منظوری بھی دے دی ہے۔ یہ ریلوے لنک ریکوڈک کو بین الاقوامی منڈیوں تک جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
