پیرس/واشنگٹن : ایک غیر معمولی اور تاریخی قانونی موڑ میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں اور ان کی اہلیہ برجیٹ ماکروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی ریاست ڈیلاؤیر کی عدالت میں ذاتی تصاویر، سائنسی شواہد اور ماہرین کی گواہیاں پیش کریں گے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ برجیٹ پیدائشی طور پر خاتون ہیں۔ یہ اقدام امریکی دائیں بازو کی مؤثر کارکن کینڈیس اووینز کے خلاف دائر کیے گئے ہتکِ عزت کے مقدمے کا حصہ ہے۔
"گارڈین” کے مطابق، کینڈیس اووینز نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ سازشی نظریہ پھیلایا تھا کہ برجیٹ ماکروں پیدائشی طور پر مرد تھیں اور ان کا اصل نام "ژاں-میشیل ٹروجنیو” (جو دراصل ان کے بھائی کا نام ہے) تھا۔ یہ دعویٰ 2021 میں فرانس میں جنم لینے کے بعد تیزی سے انٹرنیٹ اور دائیں بازو کے میڈیا حلقوں میں پھیل گیا اور فرانسیسی عدالتوں میں بھی کئی مقدمات کھولے گئے۔
امریکہ میں جولائی میں دائر کیے گئے اس مقدمے میں 22 شقوں پر مشتمل ہتکِ عزت کے الزامات شامل ہیں۔ اس میں مالی معاوضے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، لیکن رقم ظاہر نہیں کی گئی۔ ماکروں جوڑے کے وکیل ٹام کلیر کے مطابق، برجیٹ ماکروں "فیصلہ کن سائنسی ثبوت” عدالت میں لائیں گی، جن میں حمل کے دوران کی تصاویر، بچوں کی پرورش کے شواہد اور ماہرین کی گواہیاں شامل ہیں تاکہ اووینز کے دعوؤں کو مکمل طور پر جھوٹا ثابت کیا جا سکے۔
یہ مقدمہ محض ذاتی وقار کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر قانونی اور سیاسی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس مستقبل میں امریکہ کے ہتکِ عزت کے قوانین اور آزادی اظہار کی حدود کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس دور میں جب غیر مصدقہ سازشی نظریات تیزی سے وائرل ہو جاتے ہیں۔
کینڈیس اووینز نے تاحال اپنے الزامات واپس نہیں لیے اور اعلان کیا ہے کہ وہ "قانونی اور مالی نتائج” بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے برعکس، صدر ماکروں اور ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ یہ الزامات کھلے عام رد ہونا ضروری ہیں تاکہ ان کا وقار بحال ہو اور دنیا کو یہ واضح ہو کہ یہ بیانات گمراہ کن اور توہین آمیز ہیں۔
