لاہور: حکومت پنجاب نے مقامی طوطوں کی بقا اور غیرقانونی شکار و تجارت کو روکنے کے لیے ایک نیا اور اہم قانون متعارف کروا دیا ہے۔ اس قانون کے تحت اب مقامی نسل کے طوطے پالنے کے لیے لائسنس لینا لازمی ہوگا، جبکہ اس کے لیے مقررہ فیس بھی ادا کرنا ہوگی۔ حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا بلکہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں بھی مددگار ہوگا۔
جنگلی حیات کے محکمے کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ مقامی طوطے پاکستان کے ماحول کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں، لیکن غیرقانونی شکار اور اسمگلنگ کی وجہ سے ان کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ نئے قانون کے تحت بغیر لائسنس طوطے رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور جرمانے کے ساتھ ساتھ قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق، لائسنس کے اجراء کے دوران مالکان کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ طوطوں کی مناسب دیکھ بھال اور خوراک فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ طوطوں کی افزائش اور خرید و فروخت پر بھی سخت نگرانی رکھی جائے گی تاکہ غیرقانونی کاروبار کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
ماہرین ماحولیات نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور اجاگر کرنے کا بھی ذریعہ بنے گا۔ ان کے مطابق، اگر سختی سے اس پر عمل درآمد کیا گیا تو مقامی طوطوں کی نسل معدوم ہونے سے بچائی جا سکتی ہے۔
شہریوں نے بھی اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیا ہے۔ کچھ لوگ اسے مثبت قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ لائسنس فیس زیادہ نہیں ہونی چاہیے تاکہ عام لوگ بھی شوق پورا کر سکیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ پنجاب حکومت نے کسی پرندے کی بقا کے لیے اس نوعیت کا جامع اور قانونی طریقہ کار وضع کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔
