ایریزونا کے گلینڈیل میں اتوار کے روز ایک یادگار لمحہ دیکھنے کو ملا جب معروف دائیں بازو رہنما چارلی کرک کی یاد میں منعقدہ تعزیتی تقریب میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹیکنالوجی ٹائیکون ایلون مسک کو ایک طویل وقفے کے بعد ایک ساتھ بیٹھے دیکھا گیا۔ دونوں شخصیات ماضی میں قریبی ساتھی اور سیاسی اتحادی رہ چکے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس کی معاشی پالیسیوں پر اختلافات نے ان کے تعلقات میں دراڑ ڈال دی تھی۔
ٹرمپ اور مسک کا آمنا سامنا ایک ایسے وقت میں ہوا جب ہزاروں افراد یوٹا یونیورسٹی کے کیمپس میں 10 ستمبر کو فائرنگ کا نشانہ بننے والے چارلی کرک کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ دونوں رہنماؤں کی مصافحہ کی ویڈیو اور ساتھ بیٹھنے کی تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم "X” پر وائرل ہو گئی، جس کے کیپشن میں مسک نے لکھا: "چارلی کے لیے۔”
یاد رہے کہ ایلون مسک نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے 270 ملین ڈالر سے زائد کا عطیہ دیا تھا اور بعد ازاں "ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی” (D.O.G.E) کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، جس نے ہزاروں سرکاری نوکریاں ختم کر کے شدید عوامی ردعمل کا سامنا کیا۔
سیاسی اختلافات کے بعد مسک نے اپنی "امریکہ فرسٹ” پارٹی کے آغاز کا اعلان تو کیا، لیکن وہ منصوبہ عملی صورت اختیار نہ کر سکا۔ تاہم، کرک کی یادگار تقریب میں دونوں کی موجودگی نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے: کیا یہ مستقبل میں دوبارہ اتحاد کی ابتدا ہے؟
اس تقریب نے نہ صرف چارلی کرک کو ایک زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا بلکہ سابق اتحادیوں کے مابین ایک ممکنہ مفاہمت کا دروازہ بھی کھول دیا ہے۔
