اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 25 ہزار بچیاں سروائیکل کینسر کا شکار ہو رہی ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اس مہلک بیماری کے خلاف مہم کو کچھ "نام نہاد افلاطون” متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ دنیا کے 151 ممالک اس بیماری کو ختم کر چکے ہیں جبکہ پاکستان میں اب بھی ہزاروں زندگیاں اس مرض کی نذر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر ہم واقعی بیماریوں سے بچاؤ چاہتے ہیں تو ہمیں ویکسی نیشن کو عام کرنا ہوگا، ورنہ آنے والے برسوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ دنیا میں ماہرین کا ماننا ہے کہ اگلے 10 سال بعد کینسر سے کسی کی موت نہیں ہوگی، لیکن خدشہ ہے کہ پاکستان میں لوگ اس وقت بھی کینسر سے جانیں گنواتے رہیں گے۔ انہوں نے ویکسی نیشن کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہیلتھ کیئر نہیں بلکہ سک کیئر سسٹم ہے، جہاں اصل توجہ بیماری سے بچاؤ پر ہونی چاہیے۔
وفاقی وزیر صحت نے مزید کہا کہ پاکستان میں جلنے والے مریضوں کی شرح اموات بھی تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ انہوں نے ایسڈ پھینکنے کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مجرمانہ رویوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی اور متاثرہ مریضوں کو جدید علاج فراہم کرنے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف صاف پانی کی فراہمی سے 68 فیصد بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے، اس لیے ریاست کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ عوام کو بیمار ہونے سے پہلے بیماریوں سے بچایا جائے۔
