دنیا کی نظریں اس وقت مشرقِ وسطیٰ پر جمی ہوئی ہیں جہاں ایک طرف امریکی انتظامیہ امن کی بحالی کے لیے ایک وسیع منصوبہ سامنے لا چکی ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیلی قیادت اپنے بیانیے کو مزید سخت بنا رہی ہے۔ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ واشنگٹن نے اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں کے موقع پر باضابطہ طور پر اکیس نکات پر مشتمل ایک امن فریم ورک پیش کیا ہے، جس کا مقصد خطے میں تشدد کے خاتمے اور غزہ کے بحران کے حل کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے۔
ان کے بقول یہ منصوبہ نہ صرف اسرائیل کی سلامتی سے متعلق خدشات کا احاطہ کرتا ہے بلکہ عرب اور اسلامی دنیا کے تحفظات کو بھی شامل کرتا ہے۔ وٹکوف نے پُر اعتماد لہجے میں کہا کہ آنے والے ایام میں کسی قابلِ ذکر پیش رفت کا امکان ہے۔
تاہم، اس امید افزا دعوے کے ساتھ ہی اسرائیل کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے جنہوں نے اس امکان کو دھندلا دیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واشنگٹن روانگی سے قبل اپنے ملک کے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک اور ملاقات کریں گے۔
یہ ان کی چوتھی نشست ہوگی جس میں وہ اپنے بقول "اسرائیلی کامیابیوں کے بعد ابھرنے والے غیر معمولی مواقع” پر بات کریں گے اور جنگی اہداف کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیں گے۔ نیتن یاہو نے یہ بھی واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وہ نہ صرف خطاب کریں گے بلکہ ان رہنماؤں کو آڑے ہاتھوں لیں گے جو فلسطینیوں کو اسرائیل کی زمین پر ریاست دینے کے حامی ہیں۔ ان کے الفاظ میں: "ایسی خواہشات کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتیں۔”
مزید یہ کہ نیتن یاہو کے دفتر نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب یہ موقف اختیار کیا کہ یورپی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلانات اسرائیل پر کسی قسم کی پابندی یا ذمہ داری عائد نہیں کرتے۔ فرانسیسی اور بیلجین حکومتوں سمیت چھ یورپی ملکوں نے پیر کے روز فلسطین کو ریاست تسلیم کیا تھا، جس پر اسرائیلی ردِعمل انتہائی سخت تھا۔ اسرائیلی بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ "فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو گی۔”
امریکی امن منصوبے کا پس منظر اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران متعدد عرب اور اسلامی ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں خطے میں امن قائم کرنے کے لیے تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ اسرائیل اور اس کے ہمسایہ ممالک کے خدشات کو ایک ساتھ ایڈریس کیا جائے تاکہ کوئی دیرپا حل نکل سکے۔
ادھر حقیقت یہ ہے کہ زمینی صورتِ حال ان امیدوں کے بالکل برعکس ہے۔ غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائیاں اب دوسرے سال میں داخل ہو چکی ہیں اور جنگ بندی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ اقوامِ متحدہ کے تخمینوں کے مطابق اب تک 65 ہزار سے زیادہ فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ محصور علاقے کی تباہی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ بعض بین الاقوامی ادارے قحط کے خدشے کا انتباہ دے رہے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے خوراک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی محاصرے کے باعث غزہ کے کئی علاقے پہلے ہی بھوک اور قحط سے دوچار ہیں۔
ایک جانب امریکہ امن کا نیا نقشہ پیش کر رہا ہے، لیکن دوسری طرف اسرائیل اپنے سخت گیر مؤقف پر قائم ہے۔ یورپی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کے اعتراف کے باوجود اسرائیل اسے قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔
