اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 80 واں اجلاس اس وقت عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں دنیا کے بڑے رہنما اپنے اپنے ملکوں کے مؤقف پیش کر رہے ہیں۔ مگر آج کا دن خاص طور پر اس وجہ سے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے کہ عرب اور مسلم ممالک نے متفقہ طور پر اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نتین یاہو کے خطاب کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جیسے ہی اسرائیلی وزیراعظم اپنی تقریر کا آغاز کریں گے، مسلم اور عرب ممالک کے مندوبین احتجاجاً جنرل اسمبلی ہال سے اٹھ کر باہر چلے جائیں گے۔ اس فیصلے کو دنیا بھر میں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک طاقتور پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیرمعمولی قدم ہے جو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم پر اسرائیل کے خلاف شدید ردِعمل کو ظاہر کرتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مسلم ممالک کے رہنما وزیر اعظم شہباز شریف کے خطاب کے وقت دوبارہ اسمبلی ہال میں واپس آئیں گے۔ یہ منظر پاکستان کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہوگا کیونکہ دنیا بھر کے سامنے مسلم اور عرب اتحاد کا مرکز پاکستان کو قرار دیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف آج شام اپنے خطاب میں فلسطین، کشمیر، علاقائی تنازعات اور عالمی امن کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو نے حال ہی میں "گریٹر اسرائیل” منصوبے کا ذکر کیا تھا جسے مسلم اور عرب ممالک کے رہنماؤں نے نہ صرف مسترد کیا بلکہ اسے مشرق وسطیٰ کے امن اور خطے کے استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔ عرب لیگ اور او آئی سی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کو دبانے اور پورے خطے کو مزید بدامنی کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہے۔
اسی اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے مسئلے پر امن کے لیے ایک 21 نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد فوری جنگ بندی، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد، اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مسلم ممالک کے ساتھ مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان کو عالمی سطح پر ملے جلے ردِعمل کا سامنا ہے، کچھ رہنماؤں نے اسے مثبت قدم قرار دیا جبکہ دیگر نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے منصوبے سامنے آتے رہے ہیں مگر عملی طور پر کچھ حاصل نہیں ہوا۔
آج کے اجلاس میں چین کے وزیراعظم لی چیانگ اور بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس بھی خطاب کریں گے۔ چین کی تقریر کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ بیجنگ طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ توقع ہے کہ چینی وزیراعظم فلسطین کے مسئلے پر متوازن اور امن پر مبنی موقف پیش کریں گے۔ بنگلادیش کے محمد یونس انسانی حقوق، غربت کے خاتمے اور عالمی برابری کے حوالے سے بات کریں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم ممالک کا یہ فیصلہ کہ وہ شہباز شریف کے خطاب کے دوران اسمبلی ہال میں واپس آئیں گے، پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی سے کم نہیں۔ اس سے یہ تاثر ملے گا کہ پاکستان اس وقت مسلم دنیا کا مضبوط اور متحرک نمائندہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب پر دنیا کی نظریں جمی ہوں گی اور ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ فلسطین اور کشمیر کے مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کریں گے۔
