اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کی مستقل مندوب صائمہ سلیم نے بھارت کے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا کہ نیو دہلی داخلی اور عالمی سطح پر ریاستی دہشت گردی کی پالیسی پر گامزن ہے اور اپنی مکاری اور منافقت کو مزید نہیں چھپا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو فنڈز اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتا ہے۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے دہشت گرد گروہوں کو بھارتی سرپرستی حاصل ہے، اور انہی کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے جبکہ عبادتگاہیں، درسگاہیں اور بازار دہشت گردی کے مراکز میں بدل گئے۔
پاکستانی سفارتکار نے دنیا کو یاد دلایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ ہزاروں جانوں کی قربانی، اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اور سماجی تباہی کے بعد بھی بھارت پاکستان پر انگلی اٹھانے کی جسارت کرتا ہے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ جیسے فورم کو کسی ایسے ملک سے لیکچر لینے کی ضرورت نہیں جو خود دہشت گردی کو اسپانسر کرتا ہے۔
پہلگام حملے پر بات کرتے ہوئے صائمہ سلیم نے بھارت کے دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں تو اسے آزاد اور غیرجانبدار تحقیقات پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ "تحقیقات کے مطالبے سے راہِ فرار ہی بھارت کے دوہرے معیار اور جھوٹ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔”
انہوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی کے زیر سایہ بھارت میں مذہبی اور سماجی امتیاز کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو مذہب کی بنیاد پر، سکھوں کو شناخت کی بنیاد پر اور دلتوں کو ذات کی بنیاد پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہی وہ بھارت ہے جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے مگر اپنے ہی شہریوں کے حقوق سلب کرتا ہے۔
مزید برآں انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف اپنے ملک کے اندر بلکہ خطے میں بھی عدم استحکام پھیلانے کا ذمہ دار ہے۔ یہ ملک پڑوسیوں پر غنڈہ گردی کرتا ہے، علاقائی تعاون میں رکاوٹ ڈالتا ہے، ماورائے عدالت قتل کے ذریعے تشدد کو برآمد کرتا ہے اور اپنی پراکسیز کو فنڈز فراہم کر کے خطے کو غیرمحفوظ بناتا ہے۔
آخر میں صائمہ سلیم نے کہا یہی ہے نیو دہلی کا اصل چہرہ اندرون ملک اسلاموفوبیا اور انتہا پسندی، اور بیرون ملک جارحیت جو ہندوتوا کے انتہا پسند نظریے پر استوار ہے۔
یہ خطاب نہ صرف بھارتی الزامات کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مزید مضبوطی سے اجاگر کرتا ہے
