واشنگٹن / تہران / ماسکو:دنیا کی بڑی طاقتیں اس وقت ایک نئی اور غیر متوقع فوجی دوڑ میں مصروف ایران کے کم لاگت، دور مار کرنے والے شاہد-136 ڈرون کی نقل تیار کرنے کی کوششیں دنیا بھر کی فوجی صنعتوں میں تیزی سے جاری ہیں۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، شاہد ڈرون اپنی سادگی، تباہ کن صلاحیت اور کم قیمت کے باعث جدید جنگی حکمت عملی میں گیم چینجر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
ایران کے تیار کردہ شاہد-136 ڈرون کو دنیا کی توجہ اس وقت حاصل ہوئی جب روس نے 2022 میں یوکرین جنگ کے دوران اس ڈرون کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا۔ ان ڈرونز کو درجنوں کی تعداد میں بیک وقت لانچ کیا جاتا ہے، جن کا مقصد دشمن کے فضائی دفاع کو تھکانا اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔ روس نے نہ صرف ایران سے ہزاروں ڈرونز حاصل کیے بلکہ ان کی مقامی طرز پر نقول بھی تیار کر کے میدان جنگ میں استعمال کیں۔
شاہد-136 کا مثلثی ایروڈائنامک ڈیزائن، فائبر گلاس یا کاربن فائبر باڈی، اور سادہ پروپیلر انجن اسے انتہائی کم قیمت میں بڑے پیمانے پر تیار کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ 8.2 فٹ لمبا، 11.5 فٹ چوڑا اور صرف 441 پاؤنڈ وزنی یہ ڈرون چند ہزار ڈالر میں تیار کیا جا سکتا ہے جبکہ 1553 میل تک پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے یہ ایک ایسا فیچر ہے جو کئی مہنگے ڈرونز میں بھی دستیاب نہیں۔
اس سستے اور مؤثر ہتھیار کی کامیابی کے بعد امریکہ، چین، فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک کی کمپنیاں اب شاہد کے ماڈل پر اپنے کم لاگت ڈرونز تیار کر رہی ہیں۔ برطانوی کمپنی MGI انجینئرنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا اسکائی شارک ڈرون نہ صرف شاہد سے تیز ہے (280 میل فی گھنٹہ کی رفتار)، بلکہ اس کی قیمت بھی نسبتاً کم ہےصرف 50 سے 65 ہزار ڈالرہے۔
شاہد-136 کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہائی ٹیکنالوجی کے بجائے سادگی پر مبنی ہے، جو اسے قابل اعتماد، سستا اور موثر بناتی ہے۔ جدید میزائلوں یا اسٹیلتھ ڈرونز کے برعکس، شاہد کو درجنوں کی تعداد میں لانچ کر کے دفاعی نظام کو چکرا دینا اس کی سب سے بڑی حکمتِ عملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی طاقتیں اب ہائی ٹیک کے بجائے سمارٹ اینڈ لو کاسٹ حل کی طرف مائل ہو رہی ہیں۔
