ہیلسنکی /نیویارک: فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب نے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا حتمی اختیار صدر کے پاس ہے، تاہم اس کے لیے فریم ورک حکومت تیار کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بات نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہی، جس میں انہوں نے فن لینڈ کی دو ریاستی حل کے لیے مستقل حمایت اور عالمی سفارت کاری میں کردار پر بھی روشنی ڈالی۔
صدر سٹب نے وضاحت کی کہ آئین کے مطابق کسی ریاست کو تسلیم کرنے کی تجویز حکومت پیش کرتی ہے، لیکن اس پر دستخط اور حتمی منظوری صدر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا فن لینڈ کا آئین اس معاملے پر بالکل واضح ہے۔ حکومت تجویز تیار کرے گی اور میں اسے صدر کی حیثیت سے باضابطہ تسلیم کروں گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فن لینڈ کی پالیسی ہمیشہ سے دو ریاستی حل کے حق میں رہی ہے۔ یہ مؤقف نہ صرف حکومت کے پروگرام میں شامل ہے بلکہ خارجہ اور سلامتی پالیسی کے اہم دستاویزات میں بھی درج ہے۔ صدر کے مطابق میں نے ہمیشہ اس اصول پر زور دیا ہے اور اسی کی روشنی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
الیگزینڈر سٹب نے انکشاف کیا کہ فن لینڈ کی حکومت اس وقت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے طریقہ کار پر کام کر رہی ہے۔ انہیں یقین ہے کہ مناسب وقت آنے پر وزراء یہ تجویز پیش کریں گے اور وہ اس پر دستخط کریں گے۔
فن لینڈ کے صدر نے دنیا بھر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی بڑھتی ہوئی مہم کو بھی مثبت قرار دیا۔ ان کے مطابق اب ہم ایک بین الاقوامی تحریک دیکھ رہے ہیں جو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حق میں ہے، اور میرے خیال میں یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
صدر سٹب نے سعودی عرب اور فرانس کے ساتھ فن لینڈ کے سفارتی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فلسطینی ریاست پر جاری مذاکرات اور مشترکہ اعلامیے کی تیاری میں ان کا ملک بھی شامل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیلسنکی عالمی سفارت کاری کے ساتھ قدم بہ قدم آگے بڑھ رہا ہے اور محتاط مگر واضح حکمت عملی کے تحت اس اہم مسئلے پر پیش رفت کر رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ فن لینڈ نہ صرف دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے بلکہ اس سلسلے میں عملی اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے، تاکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو تقویت دی جا سکے۔
