واشنگٹن/کیف:امریکی حکام نے ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک فیصلے کے تحت یوکرین کو ایسی خفیہ معلومات فراہم کرنے کا آغاز کر دیا ہے جس سے وہ روس کی توانائی سے متعلق بنیادی تنصیبات پر دور مار میزائل حملے کر سکے گا۔
یہ انکشاف معروف امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل” نے بدھ کے روز اپنی رپورٹ میں کیا، جس کے مطابق یہ اقدام یوکرین کو روس کی تیل کی تنصیبات، پائپ لائنز، بجلی گھروں اور دیگر اہم ڈھانچوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے نشانہ بنانے کے قابل بنائے گا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ پہلے ہی یوکرین کے ساتھ انٹیلیجنس کا تبادلہ کرتا رہا ہے، مگر اب یہ تعاون ایک نئی اور جارحانہ سطح پر داخل ہو چکا ہے۔
اس اقدام کا اصل مقصد روس کو اس کی توانائی کی آمدنی سے محروم کرنا ہے، جو نہ صرف اس کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے بلکہ یوکرین جنگ میں مالی وسائل کا بڑا ذریعہ بھی۔رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نیٹو کے دیگر اتحادی ممالک سے بھی ایسی ہی انٹیلیجنس تعاون فراہم کرنے کی درخواست کر رہا ہے، تاکہ یوکرین کی حربی صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
مزید دلچسپ پہلو یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرین کے لیے حمایت میں ایک غیر متوقع اور نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔
گزشتہ ہفتے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین اپنے تمام مقبوضہ علاقے واپس حاصل کر سکتا ہے۔ یہ بیان ان کے ماضی کے موقف کے برعکس ہے اور ماہرین اسے یوکرین کے حق میں ایک مثبت موڑ قرار دے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اگست کے وسط میں الاسکا میں روسی صدر ولادی میر پوتین سے ہونے والی ملاقات کو "بہت شان دار قرار دیا تھا اور توقع ظاہر کی تھی کہ جلد ہی پوتین اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کی براہ راست ملاقات بھی ممکن ہو سکے گی۔مگر یہ ملاقات اب تک محض ایک خیال ہی ثابت ہوئی ہے، جبکہ میدانِ جنگ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔
