وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد جموں و کشمیر میں جاری کشیدگی اور احتجاجی مظاہروں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور معاملے کی مکمل شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے آئینی حق پر قائم رہتے ہوئے پُرامن احتجاج کریں اور امن و امان کو نقصان نہ پہنچائیں۔ وزیراعظم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ مظاہرین کے ساتھ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں اور عوامی جذبات کا احترام یقینی بنایا جائے، جبکہ غیر ضروری سخت رویے سے گریز کیا جائے۔
وزیراعظم نے مظاہروں کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے جائز مطالبات سننے اور مسائل کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے، جس کے لیے مذاکراتی کمیٹی کو وسیع کر دیا گیا ہے۔
مذاکراتی کمیٹی میں اب سینیٹر رانا ثنااللہ، وفاقی وزرا سردار یوسف، احسن اقبال، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر مسعود خان اور قمر زمان کائرہ شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو فوری مظفرآباد روانہ ہونے اور مسائل کا فوری اور دیرپا حل نکالنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور امن قائم کیا جا سکے
پیر سے جاری ہڑتال کے دوران آزاد کشمیر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند رہی جس کی وجہ سے خطہ مکمل طور پر مفلوج ہو گیا۔ مختلف گروہوں کے مظاہروں کے دوران تصادم کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ بدھ کے روز مظاہروں میں مزید تین پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے، جس نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا۔
آزاد کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے سی) کے مطالبات کے حوالے سے گزشتہ مذاکرات ناکام رہے، جس کے باعث اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کے تنازع پر ڈیڈلاک پیدا ہوا۔ اس ڈیڈلاک نے احتجاج کو شدت دی اور خطے میں بدامنی پھیل گئی، جس کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
