اسرائیلی کاروائی کے بعد ملک بدر کردہ بین الاقوامی کارکنان نے ترکی پہنچ کر ایک سنگین تجربے کی داستان کہی، جس میں انہوں نے کہا کہ فوجیوں نے ان کے ساتھ نہ صرف بدسلوکی کی بلکہ انسانی حدود سے ماورا سلوک کیا۔
یہ افراد گلوبل صمود فلوٹیلا کے رکن تھے، ایک بین الاقوامی بحری قافلہ جو گزشتہ ماہ غزہ کی پٹی کے محاصرہ کو توڑ کر امدادی رسد پہنچانے کے جوانازی میں روانہ ہوا تھا۔ اسرائیلی نیوی نے اس قافلے کو روکا، متعدد جہازوں پر موجود کارکنان کو گرفتار کیا، اور پھر انہیں منظّم طریقے سے ملک بدر کرنا شروع کیا۔ ان میں سے 137 افراد کو ہفتے کے روز استنبول پہنچایا گیا، جن میں سے 36 ترک شہری شامل تھے۔
استنبول ایئرپورٹ پر جب انہیں لایا گیا، اٹلی کے لومبارڈی سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ پاولو رومانو نے تفصیل سے بیان کیا کہ کیسے فوجی جہازوں سے گھیراؤ کیا گیا، بعض کشتیوں کو پانی کی توپوں کی زد میں لایا گیا اور عملے نے فوراً کنٹرول سنبھال لیا۔ قیدیوں کو گھٹنوں کے بل بٹھا دیا گیا، سر نیچے جھکا دیا گیا، اور اگر کوئی حرکت کرنے کی کوشش کرتا تو انہیں مارا جاتا تھا۔ بعض کے مطابق وہ پانی یا خوراک سے محروم رکھے گئے اور رات میں خالی خانے میں قید کیے گئے۔
ملائیشیا کی 28 سالہ کارکن ایلیا بلقیس نے اسے “بدترین تجربے” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر ہاتھ پیچھے کر کے ہتھکڑیاں لگائیں گئیں، بہت سے افراد کو چہرے کے بل لٹایا گیا، اور بہت دیر تک طبی امداد یا پانی دینے سے انکار کیا گیا۔
فلوٹیلا کا آخری جہاز مارینیٹ تھا، جسے غزہ ساحل سے تقریباً 42.5 بحری میل پر روکا گیا۔ تمام جہازوں کو بیک وقت ضبط کرنے کی ایک مربوط کارروائی کی گئی۔ گرفتار کارکنان کو اسرائیلی بندرگاہوں پر منتقل کیا گیا، قانونی کارروائی کے بعد انہیں خصوصی پروازوں سے ملک بدر کیا گیا۔
ترکی نے اس کارروائی کی سخت مذمت کی اور اسے “دہشت گردانہ جرم” قرار دیا۔ ترک وزارتِ خارجہ نے مطالبہ کیا کہ تمام ترک شہریوں کو بحفاظت واپس لایا جائے۔ دوسری طرف، کئی شہروں میں احتجاجی جلسے ہوئے — مثلاً تیونس کے وسطی علاقے میں فرانسیسی سفارت خانے کے باہر مظاہرین نے فلوٹیلا پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کی۔
فلوٹیلا کے منتظمین نے اپنی مہم کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے لائیو اسٹریمز، جہازوں پر کیمرے اور بروقت مقام شائع کرنے کا سہارا لیا تھا۔ ان کے ویب پورٹلز پر چند دنوں میں لاکھوں افراد نے وزٹ کیا۔
تنقیدی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کاروائی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر اس صورت میں کہ قافلہ بین الاقوامی پانیوں میں روانہ تھا۔ اسرائیل نے دفاعاً کہا ہے کہ نیوی نے ایک جائز بحری محاصرہ نافذ کیا، اور اس کارروائی کو قومی جواز کے تحت انجام دیا گیا۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ ایک قافلے کے جہاز پر کارروائی وقت کوئی امدادی سامان نہیں تھا — مگر فلوٹیلا کے رہنما اس دعوے کو رد کرتے ہیں۔
قیدی کارکنان کے وکلاء نے بتایا کہ بہت سے افراد طبی دیکھ بھال سے محروم رہے، بد سلوکی کا نشانہ بنے، اور انہیں “تذلیل آمیز سلوک” کا سامنا کرنا پڑا۔ گرٹا تھنبرگ کی حالت کے بارے میں اطلاعات آئی ہیں کہ انہیں ناقص حالات میں رکھا گیا، ضروریات سے محروم رکھا گیا، اور زبردستی پرچم اٹھانے پر مجبور کیا گیا۔
دباؤ اور تکلیف کے باوجود کچھ کارکنان مایوس نہیں ہیں۔ لیبیا کا کارکن ملک قطیط نے عزم کیا کہ وہ دوبارہ کوشش کرے گا، امداد کا سامان اور بحری انتظامات کر کے دوبارہ غزہ کی جانب روانہ ہوگا۔
یہ واقعہ محض ایک آپریشن نہیں، بلکہ غزہ کے حق، آئینی حقوق، اور جنگ زدہ علاقے میں انسانی رسائی کے نئے مباحثے کا نقطہ آغاز ہو سکتا ہے۔
