اسلام آباد:سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا سے متعلق اپنی نئی خارجہ پالیسی پر پارلیمنٹ کو فوری طور پر اعتماد میں لے، خصوصاً ان خبروں پر وضاحت پیش کرے جن میں امریکا کو قیمتی معدنیات کی فروخت اور پسنی پورٹ کی مبینہ پیشکش کا ذکر ہے۔
رضا ربانی نے ایک بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت نے نہ عوام کو اور نہ ہی پارلیمنٹ کو امریکا سے تعلقات کی نئی نوعیت کے بارے میں اعتماد میں لیا ہے، حالانکہ عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ خارجہ پالیسی کی سمت اور تفصیلات سے آگاہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ امریکا کبھی بھی ایک قابلِ اعتماد دوست ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے امریکی کمپنی یُو ایس اسٹریٹجک میٹلز (USSM) کو پاکستان کی قیمتی اور نایاب معدنیات کی فروخت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے معلومات صرف میڈیا کے ذریعے سامنے آنا انتہائی افسوسناک ہے۔
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں اصل اسٹیک ہولڈرز صوبے ہیں جنہیں کونسل آف کامن انٹرسٹس (CCI) کے ذریعے اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 172 واضح طور پر صوبوں کو معدنی وسائل میں 50 فیصد شراکت دار قرار دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے پہلے ہی وفاقی حکومت کے زیرِ سرپرستی لائے گئے نئے منرلز لا کو مسترد کر چکے ہیں، جس نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں وسائل کے کنٹرول کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رضا ربانی نے مزید کہا کہ عالمی میڈیا میں یہ خبریں انتہائی تشویشناک ہیں کہ پسنی بندرگاہ کو ممکنہ طور پر واشنگٹن کو دینے کی تجویز زیر غور ہے، جو خطے میں سنگین سفارتی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت فوراً پارلیمنٹ کو نئی امریکی پالیسی کے تمام پہلوؤں پر اعتماد میں لے تاکہ شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو۔
دوسری جانب، امریکی کمپنی USSM نے ستمبر میں پاکستان کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت وہ ملک میں 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے معدنی ترقی اور پراسیسنگ کی سہولیات قائم کرے گی۔ کمپنی کی پہلی نموناتی کھیپ — جس میں اینٹیمونی، تانبے کا ارتکاز اور ریئر ارتھ منرلز شامل ہیں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کے اشتراک سے امریکا بھیجی جا چکی ہے۔
ادھر حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (PTI) نے بھی ان معاہدوں کو "خفیہ اور یکطرفہ” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ان کے تمام پہلو عوام کے سامنے لائے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے غیر متوازن اور خفیہ سودے ملک کے مفاد کے خلاف ہیں اور پہلے سے موجود سیاسی بے چینی میں مزید اضافہ کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ اور قوم کو ان معاہدوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔
ادھر عسکری ذرائع نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں پسنی پورٹ سے متعلق دعووں کو تجارتی خیال قرار دیتے ہوئے اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ کوئی سرکاری پالیسی ہے۔
