ابیٹ آباد:پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 152ویں لانگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح پیغام دیا کہ بھارت سمیت کسی بھی دشمن کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان کے عزم کو آزمایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیوکلیئر ماحول میں کسی جنگ کی گنجائش نہیں، بھارت ہوش کے ناخن لے اور خطے کے امن کو داؤ پر نہ لگائے۔
فیلڈ مارشل نے آپریشن بنیان مرصوص کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ فولاد کی طرح کھڑی رہی، جس سے قوم کا اعتماد اور فوج کا عزم مزید مضبوط ہوا۔ ان کے مطابق دشمن کی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے پاکستان نےرافیل طیارے مار گرائے اور دشمن کے ایس-400 نظام سمیت متعدد فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں کریں گے۔ دشمن کو یاد رکھنا چاہیے کہ دوبارہ جارحیت کی کوشش پر جواب ان کی توقعات سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔آرمی چیف نے کہا کہ دشمن اپنی بزدلانہ پالیسی کے تحت فتنہ الہند اور فتنہ الخوارج جیسے ہائرڈ گنز استعمال کر رہا ہے،جبکہ طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ افغان سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دفاعی نظریہ کریڈیبل ڈیٹرنس پر مبنی ہے، اور افواج پاکستان دنیا کی بہترین فوج ہیں جو ہر محاذ پر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
عاصم منیر نے پاکستان-سعودی دفاعی معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کی افواج کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ وہ حرمین الشریفین کے دفاع کے لیے خدمات پیش کر سکیں۔
آرمی چیف نے مزید کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری پر فخر کرتا ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی خوش آئند ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی امن کے قیام کے لیے کوششوں کو بھی سراہا۔
انہوں نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے غیر متزلزل مؤقف کو دہرایا اور کہا کہ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رہے گی۔
اختتام پر انہوں نے شہداء، فوجی جوانوں اور ان کے خاندانوںکو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں، اور پاکستان کا پرچم ہمیشہ سربلند رہے گا۔
