پنجاب کے تعلیمی افق پر ایک نیا اور روشن باب رقم ہو چکا ہے۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن اور قیادت نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کو وہ وقار لوٹا دیا ہے جو برسوں سے معدوم تھا۔ ساہیوال، پاکپتن، گوجرانوالہ،فیصل آباد ،ڈیرہ غازی خان سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں اسکولوں کی تزئین و آرائش، جدید سہولیات کی فراہمی اور معیاری تعلیم کے فروغ نے تعلیمی منظرنامے کو یکسر بدل دیا ہے۔
یہ صرف ایک منصوبہ نہیں، بلکہ نئے تعلیمی انقلاب کی بنیاد ہے۔ پنجاب حکومت کے جاری “سکول رینوویشن منصوبے” کے تحت سینکڑوں اسکولوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ نئے فرنیچر، شفاف کمروں، روشن کلاس رومز، گرین ماحول، لائبریریوں اور سمارٹ کلاسز نے گورنمنٹ اسکولوں کی شکل و صورت بدل کر رکھ دی ہے۔ بچے اب ایک ایسا ماحول پا رہے ہیں جہاں تعلیم کے ساتھ اعتماد، سلیقہ اور خود اعتمادی بھی پروان چڑھ رہی ہے۔
ڈیرہ غازی خان کا ایک اسکول اس تبدیلی کی جیتی جاگتی مثال بن چکا ہے۔ وہاں کے بچے مریم نواز شریف کے ویژن کو نہ صرف سمجھ رہے ہیں بلکہ دوسروں تک بھی پہنچا رہے ہیں،جیسے تعلیم کے سفیر خود وہی بن گئے ہوں۔ ان اسکولوں میں خوشی، اُمید اور جذبے کا ایسا امتزاج دیکھنے کو مل رہا ہے جو برسوں بعد لوٹا ہے۔

والدین اور ماہرینِ تعلیم دونوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف عمارتوں کی تزئین نہیں، بلکہ نظامِ تعلیم کی اصلاح ہے۔ حکومت نے سرکاری اسکولوں کو دوبارہ ترجیحِ اول بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ والدین اپنے بچوں کو اعتماد کے ساتھ انہی اداروں میں بھیج سکیں۔
اسی عزم کے تحت پڑھے گا پنجاب، بڑھے گا پاکستان کے ویژن کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ پنجاب حکومت کی داخلہ مہم کامیابی سے جاری ہے، اور اب والدین بڑی تعداد میں اپنے بچوں کو گورنمنٹ اسکولوں میں داخل کروا رہے ہیں کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ یہ ادارے اب پرائیویٹ معیار سے کم نہیں بلکہ بہتر ہیں۔

مریم نواز شریف کا یہ اقدام صرف تعمیراتی نہیں بلکہ فکری و سماجی اصلاحات کا استعارہ ہےایک ایسا وژن جس نے تعلیم کو عزت، وقار اور مساوات کے رنگوں سے سنوار دیا ہے۔
یہ تبدیلی صرف دیواروں پر نہیں، بلکہ دلوں میں لکھی جا رہی ہے۔والدین خود کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کے اسکول اب واقعی کہہ رہے ہیں کہ ہم بدل چکے ہیں یہ نیا، پڑھا لکھا، روشن پنجاب ہے
