پاکستان نیوی نے بحیرہ عرب میں ایک غیر معمولی اور شاندار کارروائی کے دوران اربوں روپے مالیت کی منشیات پکڑ کر دنیا بھر میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور فرض شناسی کا لوہا منوا لیا۔ یہ تاریخی آپریشن پاکستان نیوی کے جہاز پی این ایس یرموک نے سعودی قیادت میں قائم مشترکہ ٹاسک فورس 150 کے تعاون سے انجام دیا، جس میں امریکی سینٹرل کمان نے بھی معاونت فراہم کی۔
امریکی حکام نے اس کامیاب کارروائی پر پاکستان نیوی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ محض 48 گھنٹوں کے اندر پی این ایس یرموک نے دو مشتبہ کشتیاں پکڑیں جو بغیر شناختی نشان اور خودکار شناختی نظام کے سفر کر رہی تھیں۔
پہلی کشتی سے دو ٹن کرسٹل میتھ (آئس) برآمد ہوئی جس کی مالیت عالمی منڈی میں تقریباً 82 کروڑ 24 لاکھ ڈالر ہے، جبکہ دو دن بعد دوسری کشتی سے مزید 350 کلوگرام آئس اور 50 کلوگرام کوکین برآمد کی گئی جن کی مالیت بالترتیب 14 کروڑ اور ایک کروڑ ڈالر کے قریب ہے۔ اس طرح ضبط کی گئی منشیات کی مجموعی مالیت 97 کروڑ 24 لاکھ امریکی ڈالر بنتی ہے جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 275 ارب روپے کے برابر ہے۔
برآمد شدہ منشیات کو جانچ کے بعد ضائع کر دیا گیا تاکہ وہ دوبارہ اسمگلنگ نیٹ ورکس کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ سعودی شاہی بحریہ کے کمانڈر کموڈور فہد الجوید نے اس آپریشن کو بین الاقوامی تعاون کی ایک مثالی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ثابت کرتی ہے کہ پاکستان نیوی منشیات اسمگلنگ کے خلاف عالمی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی این ایس یرموک کی یہ کامیابی مشترکہ بحری فورسز (سی ایم ایف) کی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائیوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ آپریشن “الماسماک” 16 اکتوبر کو شروع ہوا تھا، جس میں سعودی عرب، پاکستان، امریکا، فرانس اور اسپین کی بحری افواج نے حصہ لیا۔ اس آپریشن کا مقصد بحرِ ہند، بحیرہ عرب اور خلیجِ عمان میں غیر ریاستی عناصر کی جانب سے ہتھیار، منشیات اور دیگر غیر قانونی اشیاء کی اسمگلنگ کو روکنا تھا۔
کمبائنڈ میری ٹائم فورسز (سی ایم ایف) ایک کثیر القومی بحری اتحاد ہے جو تقریباً 32 لاکھ مربع میل بین الاقوامی پانیوں میں سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ بحرین میں قائم اس اتحاد کی کمان یو ایس نیوی کے وائس ایڈمرل کے پاس ہے اور اس کے 47 رکن ممالک دہشت گردی، بحری قذاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مشترکہ کوششوں میں مصروف ہیں۔
