واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بات چیت کے دوران واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی قسم کی جنگ نہیں ہونی چاہیے۔ وائٹ ہاؤس میں دیوالی کی تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ان کی مودی سے حالیہ گفتگو میں دونوں ممالک کے تعلقات، تجارت اور خطے کی صورتحال پر تفصیل سے بات ہوئی۔
تقریب میں امریکہ میں بھارتی سفیر ونے کواترا، ایف بی آئی کے سربراہ کاش پٹیل، انٹیلی جنس چیف تلسی گیبرڈ اور بھارت میں نئے امریکی سفیر سرجیو گور بھی شریک تھے۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر روایتی دیوالی دیا روشن کیا اور کہا کہ میں نے آج آپ کے وزیراعظم سے بات کی ہماری بہت اچھی گفتگو ہوئی، زیادہ تر بات تجارت پر تھی، مگر میں نے انہیں کہا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں ہونی چاہیے، اور انہوں نے اس سے اتفاق کیا۔
صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت روس سے تیل کی خریداری میں نمایاں کمی کرے گا۔ ان کے مطابق، وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت روس سے اب زیادہ تیل نہیں خرید رہا۔ وہ چاہتے ہیں کہ روس اور یوکرین کی جنگ ختم ہو۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔
انہوں نے مودی کو اپنا عظیم دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور امریکہ کچھ شاندار تجارتی معاہدوں پر کام کر رہے ہیں جو دونوں ملکوں کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔
تاہم، اس بیان کے فوراً بعد بھارت کی وزارتِ خارجہ نے حیران کن ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کے درمیان کسی گفتگو کی اطلاع نہیں ہے۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ہمیں ایسی کسی بات چیت کے بارے میں علم نہیں۔ توانائی کے معاملے میں بھارت اپنی اقتصادی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک غیر یقینی توانائی ماحول میں ہماری اولین ترجیح بھارتی صارفین کے مفادات کا تحفظ ہے۔ روس سے توانائی کی خریداری میں کمی بتدریج عمل میں آئے گی، مگر اگر روسی تیل سستا ہوا تو بھارت اسے خریدنا جاری رکھے گا۔
یوں صدر ٹرمپ کے اس غیر متوقع انکشاف نے نئی دہلی اور واشنگٹن کے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ واقعہ نہ صرف امریکہ-بھارت تعلقات میں نیا موڑ لا سکتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں خطے کی حساس توازن پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
