اسلام آباد: مرکزی مذاکرات کار مولانا طاہراشرفی نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاج اور مذاکرات کے پس منظر پر حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات خوش اسلوبی سے جاری تھے اور سیاسی حل تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی تھی، تاہم کچھ عوامل کی وجہ سے معاملات ہموار نہیں ہو سکے۔
مولانا طاہراشرفی نے وضاحت کی کہ عام کارکن جذباتی نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور ان کا کوئی قصور نہیں تھا۔ مذاکرات کے دوران سعد رضوی کی والدہ اور اہلیہ کی گرفتاریاں ہوئیں، جس پر انہوں نے فوری رابطہ کیا اور خواتین کی رہائی کے لیے ٹی ایل پی کی شوریٰ کو آگاہ کیا۔ رہائی کے بعد امید پیدا ہوئی تھی کہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹی ایل پی کی جانب سے مطالبات میں خواتین کی بے حرمتی کی روک تھام، گھروں میں چھاپے کے دوران ضبط شدہ مال و زیورات کی واپسی، علامہ خادم حسین رضوی کے مزار کی بے حرمتی پر معافی اور سیاسی مقدمات ختم کرنے کے مطالبات شامل تھے۔ مذاکرات کے دوران شفیق امینی سے مسلسل رابطے کیے گئے اور ابتدائی طور پر کچھ اختلافات کے باوجود مطالبات حتمی طور پر تسلیم کر لیے گئے۔
مولانا طاہراشرفی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ طے پایا کہ ٹی ایل پی احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرے گی۔ تاہم اسلام آباد میں موجود رہنماﺅں کو اطلاع ملی کہ ٹی ایل پی احتجاج ختم کرنے کے بجائے صرف وقت لینے کے لیے مذاکرات کا ڈھونگ رچا رہی ہے۔ اس دوران افغانستان سے پاکستانی چوکیوں پر حملے ہوئے اور 23 جوان شہید ہو گئے، جس پر فوری طور پر احتجاج ختم کرنے اور حملوں کی مذمت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مولانا طاہراشرفی نے مزید کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگانا دانشمندانہ نہیں، اور ماضی میں بھی ٹی ایل پی کیخلاف آپریشن کے فیصلے پر فوجی قیادت نے مخالفت کی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کسی جماعت کو بلیک میل نہیں کرے گی اور اب پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے کے بعد تعلقات تاریخی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
مولانا طاہراشرفی کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل میں ہر ممکن سیاسی راستہ تلاش کیا گیا اور ریاست نے ہر قدم پر قانونی اور سیاسی توازن برقرار رکھا، تاکہ ملک میں امن و استحکام قائم رہے۔
