ڈھاکا میں حال ہی میں ہونے والی ایک سفارتی ملاقات کے بعد بھارت میں ہلچل مچ گئی ہے۔ بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر اور نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات ڈاکٹر محمد یونس کی جانب سے پاکستان کی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کو دی گئی کتاب کے سرورق نے بھارتی میڈیا کو آگ بگولہ کر دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل ساحر شمشاد مرزا نے گزشتہ ہفتے بنگلا دیش کا سرکاری دورہ کیا، جہاں انہوں نے ڈھاکا میں چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانے، خطے کے امن و استحکام اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات کے اختتام پر ڈاکٹر یونس نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کو اپنی تصنیف "The Art of Triumph” تحفے میں پیش کی۔
تاہم اسی کتاب کے سرورق پر بنے نقشے نے بھارت میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، کتاب کے سرورق پر دکھائے گئے نقشے میں بھارتی ریاست آسام اور شمال مشرقی حصوں کو بنگلادیش کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے۔ جیسے ہی ڈاکٹر یونس نے کتاب پیش کرنے کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں، بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین نے واویلا مچانا شروع کر دیا، اور ڈاکٹر یونس کے خلاف منفی پروپیگنڈا مہم شروع کر دی۔
بھارتی چینلز نے اسے جغرافیائی اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنگلادیش کا نیا عبوری سیٹ اَپ بھارت کے لیے سفارتی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ڈھاکا کے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت دراصل محمد یونس کی آزاد خارجہ پالیسی سے خائف ہے، جو بنگلادیش کو نئی خودمختار سمت میں لے جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ اگست 2024 میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد مودی سرکار کو بنگلادیش میں اپنی مرضی کی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کا موقع ملا تھا۔ لیکن ڈاکٹر محمد یونس کے عبوری حکومت سنبھالنے کے بعد سے یہ توازن بگڑ گیا ہے۔
رواں برس اپریل میں اپنے چین کے دورے کے دوران بھی انہوں نے کہا تھا کہ خطے کے سمندر کا واحد نگہبان بنگلادیش ہے کیونکہ بھارت کی سات مشرقی ریاستوں کے پاس سمندر تک رسائی نہیں۔ ان کے اس بیان نے بھی نئی دہلی میں سفارتی حلقوں کو پریشان کر دیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کتاب کے سرورق کا تنازع محض ایک علامت ہے، اصل مسئلہ بنگلادیش کی نئی سیاسی سمت ہے جو خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔
