پشاور: خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کئی روز کی تاخیر کے بعد اپنی 13 رکنی کابینہ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں 10 وزراء، 2 مشیران اور 1 معاونِ خصوصی شامل ہیں۔ کابینہ میں زیادہ تر پرانے چہرے دوبارہ شامل کیے گئے ہیں، تاہم دو ایسے وزراء بھی شامل کیے گئے ہیں جنہیں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے آخری دنوں میں کابینہ سے برطرف کر دیا تھا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 16 اکتوبر کو عہدہ سنبھالنے کے بعد عمران خان سے مشاورت کے اعلان کے بعد، بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کے مطابق مختصر کابینہ تشکیل دی۔ کابینہ ارکان نے گورنر ہاؤس میں اپنے عہدوں کا حلف بھی اٹھا لیا۔
وزیران میں مینا خان آفریدی، ارشد ایوب خان، امجد علی، آفتاب عالم خان، فضل شکور خان، خلیق الرحمٰن، ریاض خان، سید فخر جہاں، عاقب اللہ خان اور فیصل خان شامل ہیں۔ مشیران میں مزمل اسلم اور تاج محمد جبکہ شفیع جان کو معاونِ خصوصی برائے وزیراعلیٰ مقرر کیا گیا ہے۔ زیادہ تر وزراء منتخب اراکین ہیں، صرف مزمل اسلم غیر منتخب رکن ہیں۔
سہیل آفریدی نے علی امین کے برطرف کردہ فیصل ترکئی اور عاقب اللہ کو دوبارہ کابینہ میں شامل کر لیا۔ ذرائع کے مطابق یہ دونوں سابقہ کارکردگی اور عمران خان کی ہدایت پر برطرف کیے گئے تھے، تاہم اب دوبارہ شمولیت سے سیاسی تجزیہ کار سوالات کر رہے ہیں کہ کیا یہ فیصلے درست ہیں یا محض گروپ بندی اور سیاسی مفاہمت کی ضرورت تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی میں گروپ بندی اور داخلی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ علی امین نے مخالف گروپ کو کارکردگی کے نام پر نشانہ بنایا، جبکہ سہیل آفریدی نے موجودہ گروپوں سے تعلقات قائم رکھنے کی مجبوری میں یہ وزراء دوبارہ شامل کیے۔ فیصل ترکئی اور عاقب اللہ کی شمولیت سیاسی توازن کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی کابینہ سب کو خوش رکھنے کی کوشش ہے، تاہم آئندہ مرحلے میں ممکن ہے کہ بیرسٹر سیف اور دیگر حلقوں کی شمولیت سے کچھ مزید گروپ خوش ہوں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس کابینہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی سیاست میں عمران خان کی ہدایت، گروپ بندی اور سیاسی مفاہمت سب اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
