جنیوا / خرطوم :اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے انکشاف کیا ہے کہ سوڈان کے مغربی علاقے دارفور کے محصور شہر الفاشر پر نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے قبضے کے دوران اور بعد ازاں سینکڑوں شہریوں اور غیر مسلح جنگجوؤں کی ہلاکت کا خدشہ ہے، جب کہ خواتین کے خلاف اجتماعی زیادتی اور ماورائے عدالت قتل کے متعدد واقعات کی تصدیق ہوئی ہے۔
ترجمان سیف میگنگو نے جنیوا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ اقوام متحدہ کو مختلف ذرائع سے موصولہ رپورٹس کے مطابق، “آر ایس ایف کے حملوں کے دوران اور قبضے کے بعد کے ایام میں شہری ہلاکتوں کی تعداد سینکڑوں تک پہنچنے کا قوی امکان ہے۔”
الفاشر، جو سوڈانی فوج کا دارفور میں آخری اہم گڑھ تھا، اتوار کے روز آر ایس ایف کے قبضے میں آگیا، جس کے ساتھ ہی 18 ماہ طویل محاصرہ ختم ہوا۔ اس محاصرے کے دوران شہر میں خوراک، ادویات اور پانی کی شدید قلت رہی، جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
ترجمان کے مطابق، ہنگامہ آرائی کے دوران دسیوں ہزار لوگ شہر سے فرار ہوئے، اور زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ انہیں تاویلا قصبے تک پہنچنے کے لیے تین سے چار دن تک پیدل سفر کرنا پڑا۔
سیف میگنگو نے کہا کہ اقوام متحدہ کو امدادی کارکنوں کی جانب سے دل دہلا دینے والے شواہد موصول ہوئے ہیں، جن کے مطابق آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے الفاشر یونیورسٹی کے قریب بے گھر افراد کے ایک پناہ گزین مرکز میں داخل ہو کر کم از کم 25 خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے مزید کہا، گواہوں کے مطابق آر ایس ایف کے اہلکاروں نے خواتین اور لڑکیوں کو زبردستی منتخب کیا، بندوق کی نوک پر ان کی عصمت دری کی، اور بزرگ مردوں کو گولیاں چلا کر دھمکیاں دیں، جس کے بعد تقریباً 100 خاندانوں کو وہ جگہ چھوڑنی پڑی۔
اقوام متحدہ کے مطابق، یہ واقعات جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔
دوسری جانب ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سوڈانی فوج پر جوابی الزامات عائد کیے ہیں کہ اس نے شہری آبادی کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق، اگر اقوام متحدہ کی رپورٹس کی مزید تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ واقعہ دارفور میں نسل کشی کے بعد سب سے بڑا انسانی المیہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
