باماکو/فلاڈیلفیا:القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ جماعت نصرت الاسلام والمسلمین (جے این آئی ایم) مالی کے دارالحکومت باماکو پر کنٹرول کے قریب پہنچ گیا ہے، جس کے نتیجے میں مغربی اور افریقی حکومتوں میں شدید تشویش پھیل گئی ہے۔امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت مالی کو دنیا کا پہلا ملک بنا سکتی ہے جو باضابطہ طور پر امریکہ کی جانب سے نامزد دہشت گرد تنظیم کے زیرانتظام ہوگا۔
یہ صورتحال اس وقت پیداہوئی جب گروپ نے گزشتہ کئی ہفتوں سےباماکو کا محاصرہ کررکھا ہے،خوراک اور ایندھن کی فراہمی منقطع کر دی ہے، جبکہ شہر میں بھوک، افلاس اور بدامنی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔بین الاقوامی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دارالحکومت کا زوال ہوتا ہے تو یہ تاریخ میں پہلا موقع ہو گا کہ القاعدہ سے براہ راست وابستہ کسی گروہ نے کسی ملک کے دارالحکومت پر قبضہ کیا ہو۔
اطلاعات کےمطابق باغی گروہ نے باماکو کی سپلائی لائنز بند کر دی ہیں، جس سے خوراک اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔یورپی حکام نے تصدیق کی ہے کہ جے این آئی ایم نے براہ راست حملے کے بجائے سست گلا گھونٹنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے، تاکہ معاشی و انسانی دباؤ کے تحت حکومت خود گر جائے۔
باماکو میں فی لیٹر پٹرول کی قیمت دو ہزار سی ایف اے فرانک (تقریباً 3.5 ڈالر) تک پہنچ چکی ہے جو سابقہ قیمت سے تین گنا زیادہ ہے۔ایندھن نہ ہونے کے باعث پاور پلانٹس بند ہو گئے ہیں، اسکول اور جامعات معطل ہیں، جبکہ شہر کے مختلف حصوں میں لوٹ مار اور احتجاج میں اضافہ ہو رہا ہے۔
فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فلاڈیلفیا کے ماہر رافیل بارنس کے مطابق محاصرہ اٹھائے بغیر گزرنے والا ہر دن باماکو کو مکمل تباہی کے قریب لارہا ہے۔ فوج کے پاس ایندھن، گولہ بارود اور حوصلہ تینوں ختم ہو رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ فوجی آپریشن مفلوج ہو چکے ہیں اور حکومتی ادارے اندر سے ٹوٹ رہے ہیں، جو افغانستان کے زوال کے مناظر کی یاد دلا رہے ہیں۔
جے این آئی ایم 2017 میں القاعدہ سے وابستہ کئی افریقی دھڑوں کے انضمام سے تشکیل پائی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس کے جنگجوؤں کو افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کے رہنماؤں سے بم سازی کی تربیت حاصل ہے۔ماہرین کے مطابق مالی کی آبادی تقریباً دو کروڑ دس لاکھ ہے اور رقبہ کیلیفورنیا سے تین گنا زیادہ، جو اس گروپ کے لیے ایک اسٹریٹجک انعام ثابت ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق القاعدہ کا اثر تیزی سے نائجر، برکینا فاسو، بینن، آئیوری کوسٹ، ٹوگو اور گھانا تک پھیل رہا ہے۔اقوام متحدہ کی جولائی میں جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جے این آئی ایم کے رہنما طالبان کے کابل ماڈل سے متاثر ہیں اور مالی میں اسی طرح کا روڈ میپ اپنانا چاہتے ہیں،یعنی بغیرکسی فیصلہ کن جنگ کےاندرسےحکومت کا انہدام۔
