ٹوکیو:جاپان میں ایک حیران کن واقعے نے فوڈ ڈیلیوری انڈسٹری کےسیکیورٹی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جب 38 سالہ بے روزگار شخص تاکویا ہیگاشیموتو نے ایک فوڈ ڈیلیوری ایپ کی تکنیکی خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو سال کے دوران ایک ہزار سے زائد آرڈرز بغیر ادائیگی کے وصول کر لیے۔
مقامی میڈیا کے مطابق، ناگویا شہر کا رہائشی ہیگاشیموتو فوڈ ڈیلیوری ایپ ڈیماے کین (Demae-can) کے کانٹیکٹ لیس ڈیلیوری فیچر کا غلط استعمال کر رہا تھا۔وہ آرڈر وصول کرنے کے بعد کمپنی کو اطلاع دیتا کہ اسے کھانا موصول نہیں ہوا، جس پر کمپنی ریفنڈ جاری کر دیتی اور وہ مفت کھانا مزے سے کھا لیتا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ تاکویا نے 124 جعلی اکاؤنٹس مختلف پری پیڈ کارڈز کے ذریعے رجسٹر کیے تھے۔ہر اکاؤنٹ چند دن کے لیے فعال رہتا، جس کے بعد وہ اسے بند کر دیتا تاکہ کمپنی کو کوئی تسلسل نظر نہ آئے۔
اس ہوشیار منصوبے کے باعث جاپانی حکام کو فراڈ پکڑنے میں دو سال لگ گئے۔پولیس کے مطابق، اس عرصے میں وہ 24 ہزار امریکی ڈالرز (تقریباً 67 لاکھ 40 ہزار پاکستانی روپے) مالیت کے آرڈر مفت حاصل کر چکا تھا جن میں مہنگے ریسٹورنٹس کے بینٹوس، آئس کریمز اور چکن اسٹیکس شامل تھے۔
رواں سال 30 جولائی کو ہیگاشیموتو نے پھر ایک فیک نام اور ایڈریس سے آرڈر دیا۔کھانا موصول ہونے کے بعد اس نے حسبِ معمول کمپنی سے ریفنڈ کا مطالبہ کیا، دعویٰ کرتے ہوئے کہ اسے کچھ نہیں ملا۔تاہم، اس بار کمپنی کے ڈیلیوری ٹریکر اور کیمرا سسٹم نے حقیقت ظاہر کر دی اور پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔
تاکویا ہیگاشیموتو نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ وہ کئی سال سے بے روزگار ہے اور ابتدا میں اس نے یہ عمل صرف آزمانے کے لیے کیا۔شروع میں سوچا صرف ایک بار کروں، لیکن جب مفت کھانے آنے لگے تو خود کو روک نہیں پایا۔پولیس کے مطابق، ملزم پر آن لائن فراڈ اور مالی جرم کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے
ڈیماے کین انتظامیہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی سیکیورٹی سسٹمز کو اپ گریڈ کر رہی ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ڈیجیٹل سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس جاپان میں ڈیجیٹل شناختی نظام (Digital ID Verification) کی کمزوریوں کو واضح کرتا ہے۔
