زیورخ /خرطوم:سوڈان کےوزیرِاعظم کامل ادریس نےعالمی برادری سےمطالبہ کیا ہے کہ دارفور کے علاقے میں ریپڈ سپورٹ فورسز(آر ایس ایف)کی جانب سے کیےجانےوالےمبینہ جنگی جرائم اور انسانیت سوز مظالم کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کواب صرف بیانات نہیں،بلکہ عملی اقدام کرنےکی ضرورت ہے۔
اتوار کے روز سوئس اخبار "بلِک” میں شائع ہونے والے ایک خصوصی انٹرویو میں ادریس نے کہا کہ الفاشر شہر میں آر ایس ایف کے قبضے کے بعد ہونے والی لوٹ مار، قتل، عصمت دری اور پھانسیوں نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
اٹھارہ ماہ کے خونریز محاصرے، بمباری اور فاقہ کشی کے بعد ۲۶ اکتوبر کو آر ایس ایف نے الفاشر پر مکمل قبضہ کر لیا، جو دارفور میں فوج کا آخری بڑا گڑھ تھا۔ اس کے بعد آر ایس ایف کو دارفور کی پانچوں ریاستی دارالحکومتوں پر کنٹرول حاصل ہو گیا، جس سے سوڈان مشرق سے مغرب تک تقسیم ہو گیا ہے۔
بچ جانے والے شہریوں کے مطابق، آر ایس ایف جنگجوؤں نے پھانسیوں، اجتماعی زیادتیوں، اور گھروں کی لوٹ مار جیسے سنگین مظالم کیے — جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔
وزیرِاعظم ادریس نے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ آر ایس ایف کو دہشت گرد تنظیم قرار دیں اور اس کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں۔تاہم انہوں نے غیر ملکی افواج کی سوڈان میں تعیناتی کے خیال کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سوڈان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔
بین الاقوامی فوجی مداخلت مزید الجھن پیدا کرے گی۔ سوڈانی عوام اور فوج الفاشر کو واپس حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔آر ایس ایف کا تعلق ماضی کی جنجوید عرب ملیشیا سے ہے، جس پر دو دہائیاں قبل دارفور میں نسل کشی کے الزامات لگے تھے۔ اب ایک بار پھر اس پر نسلی بنیادوں پر قتلِ عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
کامل ادریس نے کہا کہ سوڈان کے عوام اب بھی امن، انصاف اور یکجہتی کی بحالی کے لیے پرامید ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو محض تماشائی نہیں بلکہ فعال شراکت دار بننا ہوگا،تاکہ ظلم و بربریت کا یہ سلسلہ ختم ہو سکے۔
