کابل / اسلام آباد:افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے افغانستان کی فضائی خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ان کے مطابق امریکی ڈرون طیارے باقاعدگی سے پاکستان کے راستے افغان فضاؤں میں داخل ہوتے ہیں، جو بین الاقوامی قوانین اور افغانستان کی خودمختاری کے منافی ہے۔
اتوار کے روز افغان نشریاتی ادارے طلوع نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مجاہد نے کہ امریکی ڈرون مسلسل پاکستان کے فضائی راستے سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ اقدام ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی ہے اور اسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے خبردار کیا کہ اگر یہ فضائی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو طالبان خاموش نہیں بیٹھیں گے۔انہوں نے کہاایسے اقدامات ہمسائیگی کے تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو طالبان ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھیں گے۔ترجمان کے مطابق، طالبان حکومت تمام ممالک سے باہمی احترام اور خودمختاری کی بنیاد پر تعلقات چاہتی ہے، تاہم “کسی بھی بیرونی مداخلت” کو قبول نہیں کرے گی۔
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق طالبان نے استنبول میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران پاکستان کو واضح طور پر کہا کہ وہ اپنی زمین یا فضائی حدود افغانستان کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
انہوں نے کہاجس طرح پاکستان چاہتا ہے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہ ہو، ہم بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ کئی ماہ سے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔
اسلام آباد الزام عائد کرتا ہے کہ افغان حکومت تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کو اپنی سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دے رہی ہے، جبکہ کابل کا مؤقف ہے کہ پاکستانی فوج کے کچھ عناصر عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر سرحدی تنازع کو ہوا دے رہے ہیں۔
2023ء کے وسط سے سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر اس وقت کے بعد جب پاکستان نے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی واپسی شروع کی جسے طالبان حکومت نےغیر انسانی اقدام قرار دیا تھا۔
اگست 2021ء میں امریکی انخلا کے بعد سے افغانستان کی فضاؤں میں ڈرون سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔امریکہ ان کارروائیوں کو آؤٹ آف دی ہورائزن آپریشنزکہتا ہے جن کا مقصد القاعدہ اور داعش خراسان کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانا بتایا جاتا ہے۔
مغربی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن ان آپریشنز کے لیے پاکستان کی فضائی اور انٹیلیجنس سہولتوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے، تاہم اسلام آباد نے ان دعوؤں کی سرکاری طور پر تردید کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کا یہ نیا الزام اسلام آباد اور کابل کے درمیان سفارتی تناؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ایک جانب طالبان پاکستان سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، دوسری جانب امریکی ڈرونز کی سرگرمیوں نے اعتماد کے فقدان کو گہرا کر دیا ہے۔
