اگر آپ سوچتے ہیں کہ امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ یا جاپان کے سیاحتی ویزے سب سے مہنگے ہیں، تو یہ ایک غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا سب سے مہنگا سیاحتی ویزا ہمالیائی ملک بھوٹان کے پاس ہے، جو اپنے منفرد سیاحتی ماڈل اور ماحول دوست پالیسیوں کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔
بھوٹان میں ہر غیر ملکی سیاح کو فی رات تقریباً 100 امریکی ڈالر کی لازمی فیس ادا کرنی ہوتی ہے، جس میں ویزا فیس کے علاوہ تقریباً 40 ڈالر پائیدار ترقی فیس کے طور پر شامل کیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چار دن کے مختصر دورے پر ایک سیاح کو تقریباً 440 سے 840 ڈالر خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں۔ یہ فیسیں محض خرچ نہیں بلکہ ملک کی صحت، تعلیم، جنگلات کے تحفظ اور قدیم خانقاہوں کی مرمت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
بھوٹان کی حکومت اس پالیسی کو سیاحت کی پائیدار ترقی کے فلسفے کے طور پر نافذ کرتی ہے تاکہ سیاحوں کی تعداد محدود رہے مگر ان کے اثرات مثبت ہوں۔ اس کے ساتھ ہی، ملک کا قدرتی ماحول اور روایتی ثقافت محفوظ رہیں، جو بھوٹان کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔
یہ چھوٹا ہمالیائی ملک نہ صرف اپنی حیرت انگیز پہاڑی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے بلکہ گراس نیشنل ہیپی نیس کے فلسفے کے تحت سیاحت کو بھی خوشی، تعلیم اور ماحول دوست ترقی سے جوڑ کر پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھوٹان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں سیاحت کے ذریعے نہ صرف ملکی معیشت مضبوط ہوتی ہے بلکہ سیاح ماحولیات اور ثقافت کی حفاظت میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اس منفرد ماڈل کی بدولت، بھوٹان عالمی سیاحوں کے لیے ایک پرامن، محفوظ اور خوشحال ماحول پیش کرتا ہے، جو اسے دیگر مہنگے سیاحتی ویزوں والے ممالک سے منفرد بناتا ہے۔
