لاہور :چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ائمہ کرام کے لیے پنجاب حکومت کے ماہانہ وظیفے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت 65 ہزار مساجد کے ائمہ کو مالی معاونت دینا چاہتی ہے تو یہ ایک احسن اور عملی قدم ہے جس سے دینی اداروں اور مذہبی خدمات انجام دینے والوں کی معاشی مشکلات میں کمی آئے گی۔
علامہ راغب نعیمی نے نجی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ائمہ مساجد کو بمشکل 15 سے 20 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے، جب کہ وہ دین کی خدمت، اصلاحِ معاشرہ اور قوم کی رہنمائی جیسے عظیم فرائض انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی امام یا عالم یہ وظیفہ نہیں لینا چاہتا تو نہ لے، لیکن کسی کو اس حق سے محروم کرنا درست نہیں۔ مولانا فضل الرحمان کو حکومت کے اس اقدام کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے یہ بھی وضاحت کی کہ حکومت کی جانب سے وظیفہ دینے کا مطلب یہ نہیں کہ مساجد سرکاری تحویل میں آ جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ مساجد کو سرکاری کنٹرول میں لینے کا ایک باقاعدہ طریقہ کار ہوتا ہے، اور اس صورت میں حکومت ان مساجد کے تمام اخراجات کی ذمہ داری بھی قبول کرتی ہے۔ان کے مطابق، پنجاب حکومت صرف ائمہ کرام کے مالی حالات بہتر بنانے کی نیت سے یہ قدم اٹھا رہی ہے، جسے بلاوجہ متنازع نہیں بنانا چاہیے۔
واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے پنجاب حکومت کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے علما کے ضمیر خریدنے کی کوشش قرار دیا تھا۔اس پر علامہ راغب نعیمی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان خود تحفظِ ختمِ نبوت کے جلسوں میں بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، مگر انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اسلام امن، عدل اور اخلاقیات کا دین ہے، اور مذہبی طبقات کی فلاح بھی اسی پیغام کا حصہ ہے۔
ڈاکٹر راغب نعیمی نے انکشاف کیا کہ علما کرام کی ایک اہم میٹنگ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ہوئی، جس میں اتفاق کیا گیا کہ کسی بے گناہ کو گرفتار نہیں کیا جائے گا، صرف شرپسند عناصر کو قانون کے دائرے میں لایا جائے گا، اور ماورائے عدالت کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ٹی ایل پی کے خلاف آپریشن میں 600 افراد کے مارے جانے کی خبریں بے بنیاد ہیں، اور اگر کسی کے پاس ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد رضوی ایک ہارڈ لائنرہیں اور ان کے نظریے میں شدت پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سعد رضوی نے مارچ کا فیصلہ تنہا کیا، کسی سے مشاورت نہیں کی، جس کے نتیجے میں قانون کی خلاف ورزیاں ہوئیں اور اداروں کو ایکشن لینا پڑا۔
علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ ممتاز قادری کا واقعہ اب ماضی کا باب بن چکا ہے، اس پر مزید بات کرنا درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سب پاکستانی ہیں، اور ہمیں قانون کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہوگا۔جب ان سے پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کی کارروائیوں سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے تبصرے سے گریز کیا۔
آخر میں علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ اسلام کا اصل پیغام امن، اخوت اور برداشت ہے۔انہوں نے زور دیا کہ علما کرام، حکومت اور عوام سب کو مل کر معاشرے میں امن و بھائی چارے کا بیانیہ عام کرنا ہوگا تاکہ ملک میں انتشار کے بجائے استحکام پیدا ہو۔
