نیویارک کے نئے میئر ظہران ممدانی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے ساتھ کسی بھی اسٹیج پر اکھٹے نہیں ہوں گے۔ ممدانی نے 2002 کے گجرات فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے مودی نے ‘گجرات میں مسلمانوں کے اجتماعی قتل عام’ میں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے مودی کا موازنہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو سے کیا اور کہا کہ ہمیں انہیں اسی طرح دیکھنا چاہیے جیسے نیتن یاہو کو دیکھا جاتا ہے، جنہیں وہ ایک جنگی مجرم قرار دیتے ہیں۔
ظہران ممدانی، جو مسلم جنوبی ایشیائی نژاد ہیں، نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بننے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے آزاد امیدوار اور سابق گورنر اینڈریو کومو، اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا کو شکست دے کر شاندار کامیابی حاصل کی۔ انتخابی مہم کے دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممدانی کی بھرپور مخالفت کی، انہیں کمیونسٹ قرار دیا اور دھمکی دی کہ اگر وہ جیت گئے تو نیویارک کی فنڈنگ کو روکا جائے گا۔
34 سالہ ممدانی خود کو سوشلسٹ ڈیموکریٹ کہتے ہیں اور ان کی فتح کو امریکی سیاست میں ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس جیت نے نہ صرف نیویارک بلکہ پورے امریکہ میں امید، شمولیت اور شہری برابری کے نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ شہر بھر میں 2 ملین سے زائد ووٹ ڈالے گئے، جو 1969 کے بعد سب سے زیادہ ہیں، اور ان کی کامیابی کو امریکی شہری سیاست میں ایک اہم علامت کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔
ظہران ممدانی کی یہ فتح ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیویارک کی عوام نے تبدیلی، انصاف اور شمولیت کے نعرے بلند کرنے والے امیدوار کو ترجیح دی ہے۔ ممدانی کی قیادت میں نیویارک شہر میں شہری حقوق، مذہبی آزادی اور برابری کی نئی راہیں متعین کرنے کی توقع کی جا رہی ہے
