اٹلی میں ایک غیر معمولی سائنسی تحقیق میں 36 صحت مند رضاکاروں نے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر برف کے نیچے زندہ دفن ہونے کا تجربہ کیا تاکہ ایک نئی ڈیوائس ’سیف بیک‘ کی افادیت جانچی جا سکے۔ اس تحقیق کا مقصد ایسے افراد کے لیے سہولت فراہم کرنا تھا جو برفانی تودے کے دوران پھنس جاتے ہیں اور جن کی زندگیاں اکثر دم گھٹنے یا آکسیجن کی کمی کے باعث خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔
تحقیق کے دوران رضاکاروں کو 50 سینٹی میٹر گہرائی میں برف کے نیچے دفن کیا گیا اور ہر فرد کی صحت کی مسلسل نگرانی کی گئی۔ رضاکاروں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا: ایک گروپ کے افراد کے پاس سیف بیک ڈیوائس تھی جبکہ دوسرے گروپ میں شامل افراد کے پاس یہ سہولت موجود نہیں تھی۔
نتائج حیران کن اور شاندار تھے۔ جن افراد نے ڈیوائس استعمال کی، وہ اوسطاً 35 منٹ تک زندہ رہنے میں کامیاب ہوئے، یہاں تک کہ آکسیجن کی سطح 80 فیصد سے بھی کم ہو گئی۔ اس کے برعکس، بغیر ڈیوائس والے افراد محض 6 منٹ تک ہی برف کے نیچے گزار سکے۔ مزید یہ کہ ڈیوائس والے افراد کے گرد کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اجتماع صرف 1.3 فیصد تک محدود رہا، جبکہ دوسرے گروپ میں یہ سطح 6.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
محققین نے بتایا کہ برفانی تودے کے دوران ہونے والی زیادہ تر اموات ابتدائی 35 منٹ میں دم گھٹنے کی وجہ سے ہوتی ہیں، اور اس ڈیوائس کی مدد سے اس دورانیے میں اضافے سے انسانی جانیں بچانے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔ سیف بیک ڈیوائس بغیر باہری آکسیجن یا ماوتھ پیس کے کام کرتی ہے اور برف کے نیچے موجود افراد کی سانس کے لیے ضروری ہوا براہِ راست فراہم کرتی ہے۔
یہ تجربہ جنوری سے مارچ 2023 تک اٹلی میں انجام دیا گیا اور اس کے نتائج جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہوئے۔ محققین نے اس تحقیق کو برفانی تودوں کے دوران انسانی جانیں بچانے کی تاریخ میں ایک سنگِ میل قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ایمرجنسی ریسکیو آپریشنز میں زندگی بچانے کے امکانات بہتر ہو سکیں گے۔
یہ تجربہ انسانی ہمت، سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج کا بہترین مظہر ہے، جس سے برفانی حادثات میں زندگیاں بچانے کی نئی راہیں کھل گئی ہیں۔
