سیئول: جنوبی کوریا کی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن اگر فیصلہ کریں تو ملک چند ہی دنوں یا ہفتوں میں اپنا ساتواں جوہری تجربہ انجام دینے کے لیے تیار ہے۔ یہ تجربہ شمالی کوریا کے معروف Punggye-ri نیوکلیئر ٹیسٹ سائٹ پر کیا جا سکتا ہے، جہاں ماضی میں بھی تمام چھ جوہری تجربات کیے گئے تھے۔
جنوبی کوریا کی رپورٹ کے مطابق، کم جونگ اُن کا نیوکلیئر پروگرام انتہائی فعال مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اگر قیادت کی جانب سے حکم جاری ہوا تو تجربے کی تیاری میں بہت کم وقت درکار ہوگا۔ انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نہ صرف جوہری سرگرمیوں میں مصروف ہے بلکہ روس کی تکنیکی مدد سے مزید جاسوس سیٹلائٹس لانچ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے، تاکہ اس کی خلائی نگرانی اور میزائل ٹریکنگ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکے۔
رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ روس-شمالی کوریا دفاعی تعاون تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو مشرقی ایشیا کے لیے ایک نیا جیوپولیٹیکل چیلنج بن سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، اگر شمالی کوریا ایک اور جوہری تجربہ کرتا ہے تو یہ عالمی سطح پر سخت ردعمل کا باعث بنے گا اور امریکا، جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ شمالی کوریا نے اب تک چھ جوہری تجربات کیے ہیں، جن میں آخری تجربہ 2017 میں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے عالمی دباؤ اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود پیونگ یانگ نے اپنے نیوکلیئر عزائم کو ترک نہیں کیا۔
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کم جونگ اُن نے تجربے کا فیصلہ کیا تو یہ نہ صرف جزیرہ نما کوریا بلکہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔
