استنبول:ترکیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششوں میں ایک نیا قدم اٹھایا ہے اور الحدث کے مطابق، ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالین نے حماس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی ہے، جس میں غزہ میں جاری نازک جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور اس کے اگلے مراحل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، یہ ملاقات استنبول میں ہوئی جہاں کالین نے حماس کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ خلیل الحیہ کی قیادت میں آئے ہوئے وفد سے طویل بات چیت کی۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنگ بندی کے عمل کو ہموار اور پائیدار بنانے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں، تاکہ زمینی مشکلات اور اسرائیلی خلاف ورزیوں کے باوجود معاہدہ برقرار رکھا جا سکے۔
ترک خبر رساں ایجنسی الاناضول کے مطابق، حماس کے نمائندوں نے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ وہ جنگ بندی کے اصولوں پر قائم ہیں، چاہے اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں ہی کیوں نہ ہو رہی ہوں۔ فریقین نے اس بات پر بھی گفتگو کی کہ جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور متاثرہ علاقوں تک بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
ذرائع کے مطابق، ترکیہ کی انٹیلی جنس قیادت خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور امن عمل کو بحال کرنے کے لیے براہِ راست رابطوں اور بیک ڈور ڈپلومیسی دونوں کو بیک وقت استعمال کر رہی ہے۔ ابراہیم کالین کی یہ ملاقات دراصل اسی وسیع تر سفارتی کوشش کا حصہ تھی، جو ترکیہ خطے کے کئی مسلم ممالک کے ساتھ مل کر آگے بڑھا رہا ہے۔
یاد رہے کہ پیر کے روز استنبول میں مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہوا تھا، جس میں ترکیہ کے ساتھ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں تمام ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دو ریاستی حل ہی مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا واحد راستہ ہے۔
ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے اجلاس کے بعد کہا کہ بات چیت کا بنیادی مقصد 10 اکتوبر سے جاری اسرائیل–حماس جنگ بندی کی حمایت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر غور کرنا تھا۔ اگرچہ فیدان نے مذاکرات کے کسی ٹھوس نتیجے کا انکشاف نہیں کیا، تاہم ذرائع کے مطابق شرکاء نے جنگ بندی کے تسلسل اور انسانی امداد کے فروغ پر اتفاق کیا۔
ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے نے اب بھی خطے میں بحث کو تیز کر رکھا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق، حماس کو اپنے ہتھیار چھوڑنے اور مستقبل کے سیاسی کردار سے دستبردار ہونے کی ضرورت ہےدو ایسے نکات جو سب سے زیادہ متنازع قرار دیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ منصوبے میں غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تشکیل کا بھی ذکر ہے، جو جنگ بندی کے نفاذ اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہوگی۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ترکیہ کا کردار اس مرحلے پر انتہائی کلیدی بن چکا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف حماس اور عرب ریاستوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے بلکہ واشنگٹن کے امن منصوبے کے عملی پہلوؤں کو بھی علاقائی سطح پر قابلِ قبول بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ ملاقات اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ خطے میں موجود سفارتی سرگرمیوں کا مرکز اب تیزی سے استنبول بن رہا ہے، جہاں ایک طرف ترکیہ اپنی ثالثی کی صلاحیت کو بروئے کار لا رہا ہے، تو دوسری جانب دنیا امریکی امن منصوبے کے اگلے مرحلے کے اثرات دیکھنے کے لیے بے تاب ہے۔
