نیویارک / لاہور:دنیا کےمالیاتی دارالحکومت نیویارک میں تاریخ رقم ہوگئی34 سالہ ایشیائی نژادڈیموکریٹک سوشلسٹ زہران ممدانی شہرکےنئےمیئر منتخب ہوگئے۔
لیکن ان کی کامیابی کے بعد جو چیز سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنی، وہ سیاست نہیں بلکہ پاکستانی کرکٹ کمنٹیٹر رمیز راجہ کے لیے ان کی محبت تھی!سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں زہران ممدانی کو اپنی الیکشن ٹیم سے خطاب کرتے دیکھا جا سکتا ہے جہاں وہ اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے رمیز راجہ کے مشہور جملےTo snatch defeat from the jaws of victory دہراتے ہیں یعنی فتح کے جبڑوں سے شکست چھین لینا۔

زہران ممدانی کی یہ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے ٹویٹر (X)، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر چھا گئی ان کے جملے نے جہاں کرکٹ شائقین کو خوش کر دیا، وہیں پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے فخر کے ساتھ کہا کہ “کرکٹ کی کمنٹری نیویارک کی سیاست تک پہنچ گئی ہےیہ ویڈیو اتنی وائرل ہوئی کہ خود سابق پاکستانی کرکٹر اور معروف کمنٹیٹر رمیز راجہ نے بھی اسے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ری شیئر کیا۔
رمیز راجہ نے پوسٹ میں زہران ممدانی کو کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے لکھابہت بہت مبارک ہو مسٹر ممدانی کمنٹری کے شوقین ہونے کا شکریہ۔ آپ نے سیدھے بلے سے کھیل کر اُن لوگوں کو بے نقاب کیا جو کرکٹ نہیں کھیلتے۔ آپ پر بہت فخر ہےرمیز کے اس پیغام پر ہزاروں پاکستانی، بھارتی اور امریکی صارفین نے تبصرے کیےکسی نے لکھا پہلا میئر جس کے ہیرو رمیز راجہ ہیں تو کسی نے کہا یہ ہے کرکٹ کی اصل عالمی سفارت کاری
زہران ممدانی کا پس منظر بھی اتنا ہی دلچسپ ہے جتنا ان کا انتخابی نعرہ۔ وہ یوگنڈا میں بھارتی نژاد والدین کے گھر پیدا ہوئے، بچپن میں خاندان کے ہمراہ امریکا منتقل ہوئے اور نیویارک میں پرورش پائی۔پیشہ ورانہ طور پر وہ ایک کمیونٹی آرگنائزر اور سوشلسٹ رہنما ہیں جو طویل عرصے سے سماجی انصاف، ہاؤسنگ رائٹس اور اقلیتی آوازوں کی نمائندگی کرتے آئے ہیں۔
ان کی مہم کے دوران، انہوں نے عام ووٹرز کے ساتھ جڑنے کے لیے کرکٹ کی اصطلاحات اور رمیز راجہ کے جملوں کو بطور تمثیل استعمال کیا جس نے نہ صرف ان کی تقریروں کو پراثر بنایا بلکہ جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے دل بھی جیت لیے۔
زہران ممدانی کی ویڈیو پر دنیا بھر سے دلچسپ تبصرے جاری ہیں۔ایک صارف نے لکھا، اب سیاست میں بھی کمنٹری کا رنگ آگیا، اگلی تقریر میں ‘in the slot and out of the parkسننے کی امید ہے،ایک اور صارف نے ہنستے ہوئے کہا پیوٹن اور بائیڈن کو بھی رمیز راجہ سننے چاہییں شاید دنیا کا موڈ بدل جائیں
