قومی ائیر لائنز اور ائیرکرافٹ انجینئرز کے درمیان جاری تنازع نے ایک نیا موڑ اختیار کرلیا ہے،جب سوسائٹی آف ائیرکرافٹ انجینئرز کے صدر عبداللہ جدون اور سیکرٹری جنرل اویس جدون کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق برطرفی کا فیصلہ قومی ائیر لائن کے قوانین اور 2024 کی انکوائری کے نتائج کی بنیاد پر کیا گیا، جس میں دونوں عہدیداران کو 4 اور 5 نومبر کو ذاتی شنوائی کا موقع دیا گیا تھا، لیکن وہ سی ای او کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ برطرفی کے فیصلے کا پس منظر انجینئرز کی جانب سے جاری احتجاج اور طیاروں میں فنی خرابیوں کی نشاندہی سے جڑا ہوا ہے۔ اویس جدون کا مؤقف ہے کہ انجینئرز نے طیاروں کو خرابیوں کے باوجود کلیئرنس نہیں دی، جو حفاظتی اقدامات کے لیے ضروری تھا، اور یہ برطرفی انہی امور کے تناظر میں کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطرفی کے فیصلے کو موجودہ دستاویزات کے تحت عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
سیکرٹری جنرل سیپ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ برطرفی کی بنیادی وجہ طیاروں میں فنی خرابیوں، قوانین کی خلاف ورزی اور قومی ائیر لائن کے حفاظتی معیار کو برقرار رکھنے کی کوشش تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام نہ صرف کمپنی کی کارکردگی بلکہ فضائی سیکیورٹی کے لیے بھی ضروری تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ برطرفی نہ صرف قومی ائیر لائن کے اندر کشیدگی میں اضافہ کرے گی بلکہ انجینئرز کی جانب سے ممکنہ احتجاج اور قانونی چیلنجز بھی ملکی فضائی صنعت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس تنازع سے مستقبل میں ائیر لائن کی حفاظت اور طیاروں کی فنی جانچ کے معیار پر بھی سوالات اٹھنے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس سے انجینئرز اور قومی ائیر لائن کے درمیان جاری اختلافات میں بنیادی مسائل میں فضائی سیکیورٹی، طیاروں کی فنی خرابیوں، اور قوانین کی پاسداری شامل ہیں، اور یہ برطرفی اسی سلسلے کی تازہ پیش رفت ہے۔ ملکی فضائی صنعت کے مبصرین کے مطابق، اس اقدام سے کمپنی کے انتظامی ڈھانچے میں بھی رد و بدل متوقع ہے اور آئندہ روزگار کے تحفظ اور کارکنان کے حقوق پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
