کراچی :سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اہم آئینی اقدامات عوام کے مفاد میں ہیں اور انہیں برقرار رکھا جائے گا۔
مراد علی شاہ نے یہ بیان اس موقع پر دیا جب انہوں نے سندھ میں طلبہ کی حاضری کو مانیٹر کرنے کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام کا افتتاح کیا، جس کا مقصد اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں میں بچوں اور طلبہ کی موجودگی کی نگرانی کو موثر بنانا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ نظام ابتدائی طور پر سندھ کے اسکولوں میں نافذ کیا جائے گا اور بعد ازاں اسے کالجز اور جامعات تک بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں علم ہونا چاہیے کہ بچے کہاں جا رہے ہیں اور کس تعلیمی ماحول میں ہیں تاکہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
میڈیا سے گفتگو میں مراد علی شاہ نے این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم کے رول بیک کی کسی بھی کوشش کے خلاف اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ہم این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم کو رول بیک نہیں ہونے دیں گے۔ 18ویں ترمیم میں اور بھی بہت ساری چیزیں شامل ہیں جو وفاقی اور صوبائی اختیارات کے توازن کو برقرار رکھتی ہیں۔
اسی سلسلے میں وزیر مملکت قانون نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں بھی کوئی جلد بازی نہیں ہونی چاہیے اور آئین کوئی ایسا آسمانی صحیفہ نہیں جسے تبدیل نہ کیا جا سکے، بلکہ اس میں وقتاً فوقتاً اصلاحات کی گنجائش موجود ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مراد علی شاہ کا یہ اعلان سندھ کے سیاسی اور آئینی معاملات میں ایک واضح موقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو صوبے کی خودمختاری اور تعلیم کے معیار کو فروغ دینے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
