کئی مہینوں کی بندش کے بعد آخرکار پاکستان اور چین کے درمیان خنجراب پاس کے راستے تجارتی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو چکی ہیں، اور اسی بحالی کے ساتھ سوست ڈرائی پورٹ نے اپنی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ اکتوبر کے مہینے میں پاکستان کسٹمز نے یہاں سے ایک ارب اٹھاسی کروڑ روپے کی غیر معمولی آمدن حاصل کی، جو اس بندرگاہ کی تاریخ میں کسی بھی ایک مہینے کی سب سے زیادہ وصولی ہے۔
گلگت بلتستان کے خوبصورت مگر دشوار گزار علاقے میں واقع سوست ڈرائی پورٹ پاکستان اور چین کے درمیان زمینی تجارت کا سب سے اہم دروازہ ہے۔ یہ بندرگاہ خنجراب پاس کے قریب واقع ہے، جو دنیا کی بلند ترین پختہ سرحدی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے اور سی پیک (CPEC) منصوبے کی ایک بنیادی کڑی ہے۔ برسوں سے یہاں سے چین کے صوبہ سنکیانگ اور پاکستان کے شمالی علاقوں کے درمیان مال برداری اور تجارت کا سلسلہ جاری ہے۔
کسٹمز حکام کے مطابق اس بار آمدنی میں غیر معمولی اضافہ اس لیے ممکن ہوا کہ کئی ماہ سے معطل تجارتی سرگرمیاں اکتوبر میں مکمل طور پر بحال کر دی گئیں۔ اس سے قبل گلگت بلتستان کے تاجروں نے مختلف ٹیکس پالیسیوں اور کسٹمز کے سخت طریقہ کار کے خلاف طویل احتجاجی ہڑتال کر رکھی تھی، جس کے باعث سرحدی تجارت تقریباً ٹھپ ہو چکی تھی۔ اس دوران سیکڑوں کنٹینرز خنجراب پاس اور سوست کے قریب پھنسے رہے۔
یہ بحران اس وقت ختم ہوا جب وزیرِاعظم کی ہدایت پر قائم کردہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے گلگت بلتستان ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے۔ کئی دنوں کی بات چیت کے بعد ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت حکومت نے تاجروں کے کچھ اہم مطالبات تسلیم کر لیے۔ ان میں اضافی محصولات کے جائزے، بندرگاہ پر تاخیر سے کلیئر ہونے والے سامان کے چارجز میں نرمی، اور مقامی تاجروں کے لیے کچھ مخصوص ٹیکس ریلیف شامل تھا۔
حکومت نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ گلگت بلتستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے ملک کے دوسرے حصوں سے مختلف بناتا ہے، لہٰذا یہاں کے کاروباری نظام کو خصوصی سہولتیں دی جانی چاہئیں۔ جیسے ہی تجارتی راستہ کھلا، سوست کسٹمز کے عملے نے فوری طور پر تاخیر کا شکار سامان کی کلیئرنس شروع کر دی، جس سے اکتوبر میں محصولات کی غیر معمولی وصولی ممکن ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈ صرف ایک مالی کامیابی نہیں بلکہ ایک اقتصادی اور علامتی سنگِ میل ہے۔ معاشی اعتبار سے یہ کامیابی اس وقت آئی ہے جب حکومت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دباؤ کے تحت اپنے محصولات کے اہداف پورے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جبکہ علامتی لحاظ سے یہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی اعتماد دوبارہ مضبوط ہو رہا ہے اور دونوں ممالک کی سرحدی تجارت میں نیا جوش پیدا ہوا ہے۔
خنجراب پاس کی یہ گزرگاہ نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم ہے بلکہ خطے کی سفارتی و اقتصادی پالیسی میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ماضی میں یہ راستہ سرد موسم اور کووڈ کی پابندیوں کے باعث طویل عرصے تک بند رہا، لیکن اب اس کی بحالی سے ایک نئی تجارتی روانی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نمائندوں نے اسے ایک “بڑی پیش رفت” قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق سوست بندرگاہ پر اب جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں، جس سے سامان کی نگرانی، کلیئرنس اور محصولات کے عمل میں شفافیت بڑھی ہے۔ اس خودکار نظام کی وجہ سے بدعنوانی کے امکانات کم ہوئے ہیں اور درآمد و برآمد کے عمل میں تیزی آئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ برس بندرگاہ کی گنجائش مزید بڑھانے، جدید اسکیننگ مشینیں لگانے اور سردیوں میں بھی تجارت کو جاری رکھنے کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں گے۔ مقامی تاجروں نے ان اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت مسلسل توجہ دیتی رہی تو گلگت بلتستان کی معیشت میں نمایاں بہتری آئے گی۔
سوست ڈرائی پورٹ کی ریکارڈ آمدنی** صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کے شمالی تجارتی راستے دوبارہ اپنی اصل طاقت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعلقات کے استحکام کی نشانی ہے بلکہ مقامی معیشت کے احیاء اور بہتر حکمرانی کی ایک روشن مثال بھی بن چکی ہے۔
