دمشق/واشنگٹن: شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق صدر احمد الشرع باضابطہ سرکاری دورے پر امریکہ پہنچ گئے ہیں۔ عالمی سطح پر یہ دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے کیونکہ پہلی بار کسی شامی صدر نے واشنگٹن کا دورہ کیا ہے، جو دونوں ملکوں کے درمیان منجمد تعلقات میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب امریکہ نے حال ہی میں صدر الشرع اور شامی وزیر داخلہ انس خطّاب کا نام اقتصادی پابندیوں اور دہشت گردی کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ امریکی فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی راستے کھلنے لگے ہیں اور کئی برس بعد پہلی بار براہِ راست اعلیٰ سطحی بات چیت ہونے جا رہی ہے۔ دورے کے دوران صدر احمد الشرع کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات طے ہے، جسے خطے کی آئندہ سیاست کے لیے کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
امریکی انتظامیہ نے اگرچہ شام کے ساتھ مستقبل کے دوطرفہ تعلقات کی کوئی مکمل حکمتِ عملی جاری نہیں کی، تاہم واشنگٹن چند اہم نکات پر شامی تعاون چاہتا ہے جن میں داعش کے خلاف کارروائی، شمال مشرقی شام میں قیدیوں کے کیمپوں پر سخت نگرانی، غیر ملکی جنگجوؤں کی واپسی یا ملک بدری، دہشت گرد گروہوں کی حوالگی اور مذہبی و نسلی اقلیتوں کے تحفظ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے ساتھ امن کی بحالی کو بھی واشنگٹن خاص وزن دیتا ہے۔
امریکہ کے خصوصی نمائندے برائے شام ٹام بریک نے صدر احمد الشرع اور ان کی حکومت کی کارکردگی کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام اب درست سمت میں پیش رفت کر رہا ہے اور اس کے اقدامات خطے کے استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ دورہ تاریخی سنگِ میل ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ گفت و شنید کے تمام اہم مسائل اب بھی کھلے ہیں جنہیں حل کرنے کے لیے دونوں فریقوں کو بھرپور کوشش اور مسلسل تعاون کرنا ہوگا۔
