واشنگٹن/اوماہا: امریکی سیاست میں لفظوں کی جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے موجودہ صدر اور اپنے سیاسی حریف ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ حکومت عوام نہیں بلکہ صرف امیروں کے مفادات کی حفاظت کر رہی ہے۔
نیبراسکا کے شہر اوماہا میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بائیڈن نے تندو تیز لہجے میں دعویٰ کیا کہ جنابِ صدر، آپ کو عوام کے لیے کام کرنا چاہیے، ہم آپ کے لیے نہیں، بلکہ آپ ہمارے لیے کام کرتے ہیں، نہ کہ صرف ارب پتیوں اور کروڑ پتیوں کے لیے۔
بائیڈن کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ کی پالیسیوں پر صرف اختلاف نہیں رکھتے بلکہ واقعی “ناراض” بھی ہیں۔ تقریب کے شرکاء نے ان کے خطاب کے دوران وقفے وقفے سے نعرے بھی لگائے، جبکہ بائیڈن کی زبان میں نظر آنے والی تلخی نے یہ واضح کر دیا کہ انتخابی سیاست اب ایک بار پھر سخت مقابلے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
تقریب کے دوران سابق صدر نے وائٹ ہاؤس کے مشرقی وِنگ کو منہدم کر کے 90 ہزار مربع فٹ کا نیا استقبالیہ ہال تعمیر کرنے کے ٹرمپ کے منصوبے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ بائیڈن نے طنز کرتے ہوئے کہا، مجھے معلوم تھا کہ ٹرمپ ملک کو تباہی کی طرف لے جائیں گے، لیکن میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ حقیقی معنوں میں تباہی مچائیں گے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ٹرمپ صرف عوام کی ملکیت والے گھر پر نہیں بلکہ آئین، قانون کی حکمرانی اور امریکی جمہوریت پر بھی تباہی کی گیند پھینک رہے ہیں۔
بائیڈن نے ٹرمپ کے اس دعوے کا بھی مذاق اڑایا جس میں ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت کو امریکہ کا سنہری دور قرار دیتے ہیں۔ سابق صدر نے طنزیہ جملہ چست کیاوہ کہتے ہیں کہ ہم سنہری دور میں ہیں، جبکہ سونا تو صرف وہی ہے جو انہوں نے فائر پلیس کے اوپر لٹکا رکھا ہے۔ تقریب میں موجود لوگ اس جملے پر ہنس پڑے جبکہ بائیڈن کے الفاظ نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی انتخابی میدان حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت لفظی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے، اور بائیڈن کا یہ خطاب اس بات کی علامت ہے کہ اگلی انتخابی مہم میں ٹرمپ کے مالی فیصلوں، تعمیراتی منصوبوں اور پالیسیوں پر مزید شدید حملے کیے جائیں گے۔
