آذربائیجان/انقرہ:آذربائیجان کے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف دی آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں آذربائیجان کے صدر بھی شریک تھے۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے تمام شعبوں کا جامع اور مفصل جائزہ لیا گیا اور علاقائی استحکام، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مسلم دنیا کی خوشحالی کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کا آغاز باہمی تحفظات اور تعاون کے اظہار سے ہوا جب دونوں رہنماؤں نے تجارتی و اقتصادی شراکت، دفاعی تعاون، توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبے اور انسانی ترقیاتی پروگراموں پر زور دیا۔ اجلاس میں تجارتی حجم بڑھانے، سرمایہ کاری کے دروازے کھولنے، ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں اشتراک کے لیے عملی اقدامات تجویز کیے گئے اور ان کے فوری نفاذ کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ فوجی سطح پر تعاون کو بھی اہمیت دی گئی،دونوں جانب سے فوجی تربیت، اطلاعاتی شراکت اور مشترکہ مشقوں کے امکانات زیرِ غور آئے تاکہ علاقائی سلامتی کو مستحکم کیا جا سکے۔
خطے کے حساس معاملات پر بات چیت کے دوران خصوصاً سیکیورٹی چیلنجز، پناہ گزینوں کے مسائل، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملیاں اور شمالی افریقہ و مشرقِ وسطیٰ میں امن عمل کے حوالے سے تبادلۂ خیال ہوا۔ رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی تنازعات کا حل مذاکرات اور باہمی اعتماد کی راہ سے ہونا چاہیے اور بیرونی مداخلت سے گریز کیا جانا چاہیے تاکہ خطے میں طویل المدتی پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔
ملاقات میں انسانی حقوق اور اقلیتی گروہوں کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔ معاہدہ طور پر دونوں ممالک نے کہا کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار میں موجود اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کو تقویت دیں گے اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی برادریوں کو شمولیت دیں گے تاکہ ترقی کے فوائد وسیع پیمانے پر پہنچ سکیں۔
اس ملاقات کے ایک اہم نتائج میں ترکی کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی وزارتی وفد کے جلد ہی پاکستان کے دورے پر اتفاق شامل ہے۔ اس وفد کے زیراہتمام امکان ہے کہ توانائی، تجارت، دفاع اور تعلیمی رابطوں کے حوالے سے مفصل اقدامات طے پائیں گے اور باہمی مفاہمت کی دستاویزات پر دستخط بھی ہو سکتے ہیں۔ دونوں اطراف نے باہمی رابطوں کو تیز کرنے، سفارتی راستوں کو فعال رکھنے اور کاروباری و تجارتی حلقوں کے درمیان براہِ راست کانفرنسز و فورمز منعقد کرنے پر زور دیا۔
ماہرینِ خارجہ کے مطابق یہ ملاقات نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو تقویت دے گی بلکہ جنوبی ایشیا، قفقاز اور مشرقِ وسطیٰ میں توازن اور تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اقتصادی و دفاعی شعبوں میں خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مستحکم شراکت داری کی مثال بن سکتا ہے، خاص طور پر جب آذربائیجان جیسے تیسرے فریق کی شمولیت موجود ہو تو مشترکہ کوششوں کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔
حتمی طور پر رہنماؤں نے اس ملاقات کو دوستانہ، پیشہ ورانہ اور نتیجہ خیز قرار دیا۔ دونوں اطراف نے مستقبل قریب میں باہمی دوروں، سرمایہ کارانہ مشنز اور مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام کی منظوری دی تاکہ مذاکرات کو عملی شکل دی جا سکے اور عوامی سطح پر اس کے ثمرات فوری طور پر محسوس ہوں۔
شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر اردوان سے ملاقات نے پاکستان ترکی تعلقات کے نئے دور کی ایک واضح سمت فراہم کر دی ہے۔ سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی سطح پر پیش رفت کے عزم کے ساتھ دونوں ممالک نے باہمی وفود، سرمایہ کاری اور حفاظتی تعاون کے ذریعے اپنے تعلقات کو گہرا کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس کے عملی نفاذ کا پہلا مرحلہ جلد متوقع وزارتی دورہ ہوگا۔
