یونان اور البانیہ کی سرحد پرمحققین نے ایک حیرت انگیز دریافت کی ہے ایک غار میں مکڑیوں کا وہ جالا، جسے “میگا سٹی” کہا جا رہا ہے، ممکنہ طور پر دنیا کا سب سے بڑا مکڑیوں کا جالا ہے۔یہ جالا تقریباً 100 مربع میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں 69 ہزار بارن فنل مکڑیاں (ٹیجینیریا ڈومیسٹیکا) اور 42 ہزار شیٹ ویور مکڑیاں (پرائنریگون ویگنز) موجود ہیں۔
یہ حیرت انگیز بات قابلِ ذکر ہے کہ دونوں مکڑیوں کی اقسام عام طور پر تنہا رہتی ہیں اور جالے شیئر نہیں کرتیں، لیکن اس غار میں انہوں نے اجتماعی طور پر ایک عظیم الشان جالا بنایا ہے۔غار کی داخلی حدود یونان میں ہیں جبکہ اس کا گہرا حصہ البانیہ میں واقع ہے، اور یہ اجتماعی بستی پہلے کبھی دستاویزی شکل میں نہیں دیکھی گئی تھی۔
محققین نے جالے میں موجود مکڑیوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ مکڑیاں غار کے باہر رہنے والی اپنی نوع کے رشتہ داروں سے مختلف ہیں۔یہ انکشاف ظاہر کرتا ہے کہ مکڑیاں غار کے منفرد ماحول کے ساتھ مطابقت پیدا کر چکی ہیں اور اس میں زہریلی ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس اور روشنی کی کمی کے باوجود زندہ رہ رہی ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ غار میں چھوٹے کیڑے اور خوردبینی اجسام کی کثرت مکڑیوں کے لیے وافر خوراک کا ذریعہ بنتی ہے۔ٹی ڈومیسٹیکا اور پرائنریگون ویگنز مکڑیاں ان غذائی وسائل کی وجہ سے اجتماعی طور پر جالا بناتی ہیں، جس سے یہ نایاب مظہر ممکن ہوا۔
محققین کا خیال ہے کہ غار میں روشنی کی کمی چھوٹی پی ویگنز مکڑیوں کو بارن فنل مکڑیوں کے درمیان نمایاں ہوئے بغیر رہنے کی اجازت دیتی ہے۔
یہ دریافت میکانی بقا اور اجتماعی رویے کے حوالے سے مکڑیوں کی نوع پر ایک نیا بصیرت فراہم کرتی ہے اور حیاتیات کے شعبے میں اہم تحقیقی معلومات فراہم کرتی ہے۔
