اسلام آباد: رہنما تحریک انصاف اور سینیئر قانون دان لطیف کھوسہ نے صدرِ مملکت اور آرمی کمانڈر کو تاحیات استثنیٰ دینے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام آئین، قانون اور اسلامی اصولوں کے منافی ہے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو آئین سے کھلواڑ کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی، اور اگر موجودہ صدر اور آرمی کمانڈر کو تاحیات استثنیٰ دیا گیا تو یہ عدالتی عمل، آئینی توازن اور ملکی جمہوری ڈھانچے کے لیے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق صدر اور آرمی کمانڈر کو صرف اپنے عہدے کے دوران استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، اور تاحیات استثنیٰ دینے کی کوئی تاریخی یا قانونی مثال موجود نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر اور گورنر کو عہدے کے دوران فوجداری مقدمات میں استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، لیکن یہ استثنیٰ عہدے کی مدت تک محدود ہوتا ہے۔ لطیف کھوسہ نے زور دیا کہ آرمی کمانڈر کو تاحیات استثنیٰ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جو پہلے کبھی نہیں ہوئی، اور یہ اقدام آئین اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔
سینیئر وکیل نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نہ نبی کریم ﷺ نے خود کو کوئی استثنیٰ دیا اور نہ ہی کسی صحابی کو دیا گیا۔ لہٰذا موجودہ اقدام اسلامی تعلیمات اور آئینی روح کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرے گا اور عدلیہ کی آزادی اور شفافیت پر سوالیہ نشان لگائے گا۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ صدر اور آرمی کمانڈر دونوں کے لیے تاحیات استثنیٰ قانونی اور آئینی طور پر کسی صورت جائز نہیں ہے، اور عوام، عدلیہ اور پارلیمنٹ کو اس فیصلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ آئین کی روح اور اسلامی تشخص برقرار رہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئینی توازن کی خلاف ورزی اور ایسے اقدامات جمہوری نظام میں غلط پیغام دیتے ہیں، اور آئینی ماہرین، قانون دان اور سیاسی قیادت کو مل کر اس معاملے پر عوامی اور عدالتی سطح پر بحث کرنی چاہیے۔
