خرطوم: سوڈان میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان خانہ جنگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ اتوار کے روز سوڈانی فوج نے جنوبی دارفور کے شہر نیالا کے ہوائی اڈے پر فضائی حملے کیے، جب کہ شمالی کردفان کے شہر الابیض میں زمینی تعیناتی اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
سوڈان کے حکومتی میڈیا کے ذمہ دار عقاد بن کونی نے غیر ملکی نشریاتی ادارے العربیہ سے گفتگو میں واضح کیا کہ RSF کے الابیض پر قبضے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق فوج شہر اور گردونواح میں مکمل طور پر متحرک ہے اور ’’کسی بھی جارحانہ کارروائی کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔‘
دارفور کی علاقائی حکومت کے اطلاعاتی افسر کے مطابق الفاشر شہر اس وقت بدترین انسانی بحران سے گزر رہا ہے۔ RSF نے شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے اور شہریوں کو طویلہ کے راستے فرار ہونے سے روکا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق انسانی امداد لے جانے والی تنظیموں کو بھی متاثرہ علاقوں میں داخل ہونے سے روکا گیا ہے، جس سے ہزاروں بے گھر افراد غذائی قلت اور علاج کی کمی کا شکار ہیں۔
مغربی کردفان کے شہر بابنوسہ میں بھی اتوار کے روز شدید جھڑپیں ہوئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق RSF نے شہر پر توپ خانے سے حملہ کیا، جس کے جواب میں فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔
سوڈانی فوج کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں دعویٰ کیا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کو پسپا کر دیا گیا ہے اور شہر کے گردونواح میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
ایک امدادی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق فوج نے اپنی 22ویں بریگیڈ پر ہونے والے حملے کو ناکام بنایا، تاہم جانی نقصان کے بارے میں تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
بیان میں کہا گیا کہ شہر گزشتہ 22 ماہ سے مسلسل جھڑپوں کا مرکز ہے اور اب ’’یہ علاقہ بھوتوں کا شہر بن چکا ہے‘‘، کیونکہ زیادہ تر آبادی نقل مکانی کر چکی ہے۔
فوج نے اعتراف کیا کہ 4 نومبر 2024 کو ایک کارگو طیارہ امدادی سامان گرانے کے دوران فنی خرابی کے باعث تباہ ہوا۔
یہ طیارہ بابنوسہ میں محصور فوجی یونٹوں کے لیے امداد لے جا رہا تھا۔ حکام کے مطابق، حالیہ دنوں میں فوج فضا سے امدادی سامان گرانے کے مشنز پر انحصار کر رہی ہے، کیونکہ زمینی راستے RSF کے کنٹرول میں ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جنوری 2024 سے اب تک ایک لاکھ 77 ہزار سے زائد افراد مغربی اور جنوبی کردفان سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ اسی رفتار سے جاری رہی تو سوڈان ایک مکمل انسانی تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔
