اسلام آباد: جی-الیون سیکٹر کی کچہری کے قریب منگل کی دوپہر تقریباً ساڑھے بارہ بجے ایک زور دار خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 27 سے زائد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق دھماکا موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور نے پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا کر کیا، جس سے نزدیک کھڑی تین گاڑیوں ایک پولیس اور دو پرائیویٹ گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا اور آگ لگ گئی۔ دھماکے کے نتیجے میں حملہ آور کے اعضا بھی کچہری کے اندر جا گرے۔
زخمیوں میں وکلا اور سائلین بھی شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو سیل کر دیا ہے تاکہ تحقیقات کو محفوظ اور موثر انداز میں انجام دیا جا سکے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی شواہد سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دھماکے میں ہندوستانی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی "فتنہ الخوارج” ملوث ہو سکتی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آور کچہری کے اندر جانے کی کوشش کر رہا تھا اور تقریباً 10 سے 15 منٹ تک پلاننگ میں لگا رہا۔ پولیس کی گاڑی کے پہنچتے ہی اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ کچہری حملے میں ملوث تمام کرداروں کو جلد سامنے لایا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز وانا میں بھی گاڑی سوار خودکش حملہ آور کی انٹری پوائنٹ پر دھماکہ ہوا، اور اس علاقے میں کلیئرنس جاری ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وانا حملے میں بھی افغانستان ملوث تھا اور وہاں سے کمیونیکیشن کی گئی۔
یہ حملہ ملک میں امن و امان کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے روکنے اور ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بھرپور کارروائی کر رہے ہیں۔
