واشنگٹن: امریکہ میں 41 روز سے جاری حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے لیے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی سینیٹ نے اخراجاتی بل کی ابتدائی منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی اداروں کی بحالی اور لاکھوں سرکاری ملازمین کے مسائل حل ہونے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن نے سینیٹ میں قانون سازی کے حق میں ووٹنگ کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ سینیٹ کی منظوری سے حکومت کے دروازے دوبارہ کھلنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہمارا اگلا ہدف ایوان نمائندگان میں اس بل کی جلد از جلد منظوری ہے تاکہ وفاقی حکومت مکمل طور پر فعال ہو سکے۔
مائیک جانسن نے مزید کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ عوام کو ایک دن بھی مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ بل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے بعد باضابطہ قانون کی شکل اختیار کرے گا اور وفاقی ادارے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں گے۔
41 دن سے جاری اس شٹ ڈاؤن کے دوران 8 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین بغیر تنخواہ کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس طویل تعطل نے امریکی معیشت کو جھٹکا دیاہےخوراک کی امدادی پروگرام معطل، فضائی نظام متاثر اور کئی عوامی سروسز تقریباً بند ہو چکی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، کئی ایئرپورٹس پر سیکیورٹی چیک کے عملے کی کمی کے باعث پروازوں میں تاخیر معمول بن گئی ہے جبکہ عوامی سطح پر عدم اطمینان بڑھتا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، یہ شٹ ڈاؤن امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کے نقصان سے دوچار کر چکا ہے۔
یہ شٹ ڈاؤن دراصل اخراجاتی بل پر صدر ٹرمپ اور کانگریس کے درمیان اختلافات کی وجہ سے شروع ہوا۔ صدر ٹرمپ چاہتے تھے کہ سالانہ بجٹ میں سرحدی سیکیورٹی کے لیے خصوصی فنڈ شامل کیا جائے، جب کہ ڈیموکریٹس اس کی مخالفت کر رہے تھے۔
اب سینیٹ میں ابتدائی منظوری کے بعد سیاسی ڈیڈ لاک ٹوٹنے کی امید ہے۔ تاہم، مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایوان نمائندگان میں بھی بل منظور ہو گیا تو یہ طویل ترین شٹ ڈاؤن تاریخ کا حصہ بن جائے گا اور حکومت ایک بار پھر معمول پر آجائے گی۔
سینیٹ میں منظوری کے بعد امریکی عوام نے سکون کا سانس لیا ہے، تاہم ابھی حتمی مرحلہ باقی ہے یعنی ایوان نمائندگان سے بل کی توثیق اور صدر کے دستخط۔ اگر یہ عمل اگلے چند روز میں مکمل ہو جاتا ہے تو وفاقی اداروں کے دروازے دوبارہ کھل جائیں گے، تنخواہیں بحال ہو جائیں گی، اور امریکی معیشت کو درپیش دباؤ میں واضح کمی آئے گی۔
