اقوامِ متحدہ کے دو بڑے ادارے، یعنی ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) اور خوراک اور زراعت کے عالمی ادارے (FAO) نے دنیا کے متعدد ممالک میں خوراک کی شدید کمی اور انسانی ہلاکتوں کے خطرے کے حوالے سے انتباہ جاری کیا ہے۔ ان اداروں کے مطابق، دنیا کے کم از کم ۱۶ ممالک میں لاکھوں افراد بھوک اور قحط کے شدید خطرے سے دوچار ہیں، اور ان میں فلسطینی پٹی (غزہ) اور سوڈان کے لاکھوں عوام بھی شامل ہیں۔ یہ انتباہ بدھ کے روز جاری کیا گیا اور اس میں کہا گیا کہ عالمی امدادی فنڈنگ میں کمی کے باعث خوراک کی بروقت تقسیم میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے انسانی بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی ان دونوں ایجنسیوں کی فہرست میں سب سے زیادہ خطرے کے شکار ممالک میں یمن، ہیٹی، مالی، سوڈان اور غزہ شامل ہیں، جبکہ دیگر ممالک جنہیں شدید غذائی قلت کا سامنا ہے، ان میں افغانستان، کانگو، میانمار، نائیجیریا، صومالیہ، شام، برکینا فاسو، چاڈ، کینیا اور روہنگیا کے پناہ گزین بھی شامل ہیں۔ ان علاقوں میں انسانی بنیادوں پر کی جانے والی امدادی سرگرمیاں بنیادی ضرورتوں جیسے خوراک، پناہ گزینوں کی معاونت اور بچوں کی تعلیم تک محدود ہو گئی ہیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سِنڈی میکین نے اس صورتحال کے بارے میں کہا کہ ہم ایک ایسے نقطے پر کھڑے ہیں جہاں اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بھوک، عدم استحکام اور نقل مکانی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال ان پروگرامز کے لیے درکار تقریباً ۲۹ ارب ڈالر کی فنڈنگ میں صرف ۱۰.۵ ارب ڈالر کی رقم موصول ہوئی ہے، جس کی وجہ سے خوراک، بچوں کی تغذیہ، پناہ گزینوں کی معاونت، اور زرعی ترقی سے متعلق پروگرام متاثر ہوئے ہیں۔
خوراک اور زراعت کے عالمی ادارے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسانوں، فصلوں اور مویشیوں کی حفاظت کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی فنڈز کی کمی کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف موجودہ خوراک کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے بلکہ مستقبل میں زرعی پیداوار اور اقتصادی استحکام بھی شدید خطرے میں ہے۔ مویشیوں کی صحت، بیجوں کی دستیابی اور زرعی آلات کی فراہمی جیسے بنیادی اقدامات متاثر ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی خوراک کی پیداوار میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق، غذائی بحران کی بنیادی وجوہات میں موسمی تبدیلیاں، خشک سالی، سیلاب، جنگیں اور معاشی مشکلات شامل ہیں، جو نہ صرف خوراک کے نظام کو کمزور کرتی ہیں بلکہ انسانی زندگیوں کے لیے خطرات بھی بڑھاتی ہیں۔ صومالیہ میں تقریباً ۴.۶ ملین افراد شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں اور اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو انہیں بنیادی خوراک بھی میسر نہیں ہو پائے گی۔
یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں لوگ بھوک، بیماری اور نقل مکانی کا شکار ہو جائیں گے۔ امدادی نیٹ ورکس، انسانی حقوق کے ادارے اور حکومتیں فوری فنڈنگ اور خوراک کی ترسیل کے اقدامات کریں، ورنہ یہ بحران مزید بڑھ سکتا ہے اور دنیا کے کمزور معاشروں پر شدید اثر ڈالے گا۔
اقوامِ متحدہ کی یہ انتباہی رپورٹ عالمی سطح پر انسانی بحران کے سنگین اثرات اور فنڈنگ میں کمی کے باعث پیدا ہونے والے خطرات کی نشاندہی کرتی ہے، اور یہ واضح کرتی ہے کہ اگر بین الاقوامی سطح پر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔
